Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump Golf Course Security Threat: ڈونلڈ ٹرمپ کے قتل کی سازش؟ گولف کورس کے قریب کار سے بندوق برآمد، ایک مشتبہ شخص گرفتار

لاس اینجلس میں واقع ٹرمپ نیشنل گولف کورس کے باہر ایک مشتبہ شخص کو اسلحے سمیت گرفتار کیا گیا ہے۔ فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) اور امریکی سیکریٹ سروس اس بات کی مشترکہ تحقیقات کر رہی ہیں کہ آیا یہ واقعہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر حملے کی کسی مبینہ سازش کا حصہ تھا یا نہیں۔

لاس اینجلس: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر ممکنہ سکیورٹی خطرے سے بال بال بچ گئے۔ لاس اینجلس میں واقع ٹرمپ نیشنل گولف کورس کے باہر سکیورٹی اہلکاروں نے ایک مشتبہ مسلح شخص کو گرفتار کر لیا۔ یہ گرفتاری ایسے وقت میں عمل میں آئی جب صدر ٹرمپ ریپبلکن نیشنل کمیٹی (RNC) کے ایک اہم عشائیے میں شرکت کے لیے اسی گولف کورس پہنچنے والے تھے۔ حکام کے مطابق گرفتار شخص گزشتہ دو دن سے گولف کورس کے اطراف موجود تھا اور مبینہ طور پر سکیورٹی انتظامات، وی آئی پی روٹس اور نقل و حرکت کی نگرانی کرتے ہوئے تصاویر اور ویڈیوز بنا رہا تھا۔

گرفتار شخص کے پاس سے اسلحہ اور گولیاں برآمد

لاس اینجلس کاؤنٹی شیرف ڈپارٹمنٹ کے مطابق گرفتار کیے گئے 38 سالہ شخص کی شناخت جینین جان ٹیلی کے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس نے اسے حراست میں لے کر تلاشی لی تو اس کے قبضے سے 16 راؤنڈ والی میگزین اور زندہ کارتوس برآمد ہوئے، جبکہ اس کی گاڑی سے ایک لوڈڈ پستول بھی ملی۔ بعد ازاں خفیہ ایجنسیوں نے ڈاؤنی شہر میں واقع اس کے گھر پر چھاپہ مارا، جہاں سے بڑی مقدار میں آتشیں اسلحہ، غیر قانونی طور پر تبدیل شدہ رائفل، بلٹ پروف جیکٹ، ریڈیو سگنل ڈیوائسز اور چند مشتبہ نوٹ بکس برآمد ہوئیں۔ ان نوٹ بکس میں درج بعض تحریروں کو حکام نے تشویشناک قرار دیا ہے۔

ایف بی آئی اور سیکریٹ سروس کی مشترکہ تحقیقات جاری

ملزم کے خلاف سیکنڈ ڈگری ڈکیتی، ممنوعہ بڑی گنجائش والی میگزین رکھنے، غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور گاڑی میں بندوق چھپانے سمیت متعدد سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ تاہم پیر کے روز عدالت میں پیشی کے دوران ملزم نے خود کو بے قصور قرار دیتے ہوئے تمام الزامات سے انکار کیا۔

فی الحال ایف بی آئی کی جوائنٹ ٹیررازم ٹاسک فورس اور امریکی سیکریٹ سروس اس زاویے سے تحقیقات کر رہی ہیں کہ آیا یہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نشانہ بنانے کی منظم سازش تھی یا اس کے پیچھے کسی بڑے نیٹ ورک کا ہاتھ موجود ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read