نئی دہلی : عام آدمی پارٹی (آپ) کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کی جانب سے ای-20 (E20) پٹرول کے خلاف وزیر اعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ تک مجوزہ مارچ سے قبل دہلی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ فیروز شاہ روڈ اور اطراف کے علاقوں میں ریپڈ ایکشن فورس (RAF) اور دہلی پولیس کے اضافی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی غیر مجاز مارچ یا ہجوم کو قابو میں رکھا جا سکے۔عام آدمی پارٹی نے سکیورٹی کے ان سخت انتظامات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پارٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر جاری بیان میں الزام لگایا کہ مودی حکومت اپنی ضد میں ملک پر ای-20 پٹرول نافذ کرنا چاہتی ہے، جس سے 30 کروڑ سے زیادہ گاڑیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔ پارٹی کے مطابق اروند کیجریوال دوپہر 12 بجے وزیر اعظم کو ای-20 پٹرول کے خلاف دو لاکھ 33 ہزار سے زائد شہریوں کے دستخطوں پر مشتمل عرضداشت پیش کرنے کے لیے مارچ کریں گے۔
پارٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ عوام کے سوالات سے بچنے کے لیے حکومت نے پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی ہے، جبکہ یہ مارچ عوامی مفاد کے ایک اہم مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے نکالا جا رہا ہے۔دوسری جانب پولیس ذرائع کے مطابق اروند کیجریوال کے مجوزہ مارچ کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ تک کسی بھی مارچ کے لیے کوئی باضابطہ اجازت جاری نہیں کی گئی اور اگر کوئی غیر مجاز مارچ نکالا جاتا ہے تو اسے روکنے کے لیے مکمل سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔پولیس کے مطابق حساس مقامات پر اضافی فورس تعینات کی گئی ہے اور صورت حال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ قانون و نظم کی صورتحال برقرار رہے۔
اروند کیجریوال نے گزشتہ ہفتے “نیشنل ٹاؤن ہال اگینسٹ ای-20” پروگرام کے دوران اعلان کیا تھا کہ وہ 4 اگست کو تقریباً 100 رضاکاروں کے ساتھ وزیر اعظم کی رہائش گاہ تک مارچ کریں گے۔ ان کے مطابق آن لائن مہم کے ذریعے ای-20 پٹرول کے خلاف دو لاکھ سے زائد شہریوں کے دستخط جمع کیے گئے ہیں، جنہیں وہ ایک یادداشت کی صورت میں وزیر اعظم کے حوالے کرنا چاہتے ہیں۔اس سے قبل پیر کے روز کیجریوال نے الزام لگایا تھا کہ مرکزی حکومت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ میں آ کر ای-20 ایندھن کو فروغ دے رہی ہے تاکہ امریکہ سے ایتھانول کی درآمد بڑھائی جا سکے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ماہ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر ای-20 پٹرول سے متعلق خدشات پر ملاقات کا وقت مانگا تھا، تاہم انہیں کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ اسی وجہ سے انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ خود وزیر اعظم کو عوامی دستخطوں پر مشتمل یادداشت پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔دریں اثنا، مجوزہ مارچ کے پیش نظر قومی دارالحکومت میں سکیورٹی کے سخت انتظامات برقرار ہیں اور پولیس کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر مستعد نظر آ رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔





