نئی دہلی : پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران پیر کو ایک بار پھر راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی، جس کے باعث راجیہ سبھا میں سوالیہ وقفہ (کوئسچن آور) منعقد نہ ہو سکا اور دونوں ایوانوں کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔راجیہ سبھا میں اپوزیشن نے حالیہ طلبہ احتجاج سے متعلق معاملات پر قانون سازی کا کام روک کر ضابطہ 267 کے تحت فوری بحث کرانے کا مطالبہ کیا۔ کارروائی شروع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد متعدد اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کر چیئرمین کے آسن کے قریب پہنچ گئے اور نعرے بازی شروع کر دی۔ایوان میں بڑھتے ہوئے شور شرابے کے درمیان چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے ارکان سے اپنی نشستوں پر واپس جانے اور ایوان کا نظم برقرار رکھنے کی اپیل کی، لیکن اپوزیشن اپنے مطالبات پر ڈٹی رہی اور نعرے بازی جاری رکھی۔ صورتحال قابو سے باہر ہوتی دیکھ کر چیئرمین نے راجیہ سبھا کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دی۔
ادھر لوک سبھا میں بھی اسی نوعیت کی ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی، جس کے باعث وہاں بھی کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔راجیہ سبھا میں اپوزیشن ارکان نے ضابطہ 267 کے تحت بحث کرانے کے لیے دیے گئے نوٹس پر اصرار کیا، تاہم چیئرمین نے واضح کیا کہ ان نوٹسز کو قبول نہیں کیا گیا ہے۔ اس دوران کئی ارکان ہاتھوں میں پوسٹر اٹھائے احتجاج کرتے نظر آئے، جس پر چیئرمین نے سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایوان کے قواعد کی خلاف ورزی ہے۔چیئرمین کی جانب سے ضابطہ 267 کے تحت نوٹس مسترد کیے جانے کے اعلان کے بعد اپوزیشن کا احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا اور نعرے بازی میں اضافہ ہوگیا، جس کے بعد ایوان کی کارروائی ملتوی کر دی گئی۔
اس سے قبل راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے نے کہا تھا کہ اپوزیشن نے ضابطہ 267 کے تحت نوٹس جمع کرایا ہے اور وہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی سمیت دیگر متعلقہ معاملات پر فوری بحث چاہتی ہے۔چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی ضابطہ 267 کے تحت اس نوعیت کی بحث کی اجازت نہیں دی گئی تھی اور اس بار بھی نوٹس قبول نہیں کیے گئے۔قابل ذکر ہے کہ پارلیمنٹ کے موجودہ مانسون اجلاس میں اب تک سوالیہ وقفہ اور زیرو آور کا بڑا حصہ مسلسل ہنگامہ آرائی کی نذر ہو چکا ہے، جبکہ پیر کو بھی دونوں ایوانوں میں معمول کی کارروائی متاثر رہی۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




