بہار کے ضلع سیتامڑھی سے بدعنوانی کا ایک حیران کن معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک ڈیٹا انٹری آپریٹر پر سرکاری گرانٹ جاری کرنے کے بدلے 50 ہزار روپے رشوت مانگنے کا الزام لگا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ رہی کہ ملازم نے فون پر رشوت کی یہی مانگ اس وقت بھی دہرائی، جب دوسری جانب خود درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کی بہبود کے وزیر لکھندر پاسوان موجود تھے۔ گفتگو سنتے ہی وزیر نے فوری کارروائی کا حکم دیا، جس کے بعد متعلقہ ملازم کی خدمات ختم کر دی گئیں۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
یہ معاملہ وزیر کے عوامی دربار میں سامنے آیا، جہاں ایک شکایت کنندہ نے الزام لگایا کہ سرکاری امداد کی رقم جاری کرنے کے لیے اس سے 50 ہزار روپے طلب کیے جا رہے ہیں۔ شکایت کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وزیر نے موقع پر ہی متعلقہ ملازم چندن کمار کو فون کیا۔الزام ہے کہ فون پر گفتگو کے دوران چندن کمار نے ایک بار پھر رقم دینے کی بات کی۔ اس کے بعد وزیر نے سیتامڑھی کے ضلعی فلاحی افسر (ڈسٹرکٹ ویلفیئر آفیسر) سے رابطہ کر کے سخت کارروائی کا حکم دیا۔
رشوت مانگنا پڑا مہنگا، نوکری سے برطرف
محکمے نے حکم جاری کرتے ہوئے چندن کمار کو فوری اثر سے ملازمت سے فارغ کر دیا۔ وزیر لکھندر پاسوان نے کہا کہ این ڈی اے حکومت میں بدعنوانی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے اور غریبوں کے حق کی رقم روکنے یا رشوت مانگنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
#बिहार #सीतामढ़ी : अनुसूचित जाति एवं जनजाति कल्याण मंत्री लखेंद्र पासवान ने सीतामढ़ी में आयोजित जनसुनवाई के दौरान फोन पर रिश्वत मांगने के आरोपित डेटा एंट्री ऑपरेटर को तत्काल निलंबित करने का आदेश दिया है।
➡️मंत्री ने मामले की जांच कर दोषियों के विरुद्ध कड़ी कार्रवाई करने के भी… pic.twitter.com/xChmUHMp3I
— आकाशवाणी समाचार, पटना (@airnews_patna) August 1, 2026
تاہم محکمانہ ریکارڈ کے مطابق متعلقہ گرانٹ کی پہلی قسط 23 جولائی 2026 کو ہی منظور کر دی گئی تھی۔ بتایا گیا کہ رقم فوری طور پر بینک کھاتے میں ظاہر نہ ہونے کے باعث تنازع پیدا ہوا۔ فی الحال رشوت طلب کرنے کے الزام میں کارروائی کی جا چکی ہے، جبکہ ادائیگی سے متعلق دستاویزات کا بھی محکمانہ سطح پر جائزہ لیا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




