Bharat Express DD Free Dish

Asaduddin Owaisi: اویسی کا مودی، یوگی اور اکھلیش پر بڑا حملہ، مرادآباد جلسے میں نوجوان قیادت اور اتحاد کا دیا پیغام

وزیراعظم نریندر مودی پر طنز کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ 2029 کے انتخابات کے بعد ملک کو تقریباً 42 یا 45 سال عمر کا نوجوان وزیراعظم ملے، نہ کہ 80 سال کا شخص۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو نئی سوچ اور نوجوان قیادت کی ضرورت ہے۔انہوں نے اتر پردیش کے محکمۂ مال کی اس مبینہ فہرست پر بھی سوال اٹھایا۔

نئی دہلی : آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین   (اے آئی ایم آئی ایم)کے صدر اور رکنِ پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے اتر پردیش کے مرادآباد میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مرکز اور ریاستی حکومت کے ساتھ ساتھ سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے نیٹ پیپر لیک معاملے میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کو طلبہ کی جدوجہد کی کامیابی قرار دیتے ہوئے جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے نوجوانوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔اویسی نے کہا کہ وہ ان طلبہ کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے مسلسل احتجاج کے ذریعے حکومت کو فیصلہ لینے پر مجبور کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کی آواز کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور یہ واقعہ نوجوان طاقت کی جیت کی علامت ہے۔جلسے کے دوران اویسی نے اعلان کیا کہ آئندہ اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں اے آئی ایم آئی ایم زیادہ سے زیادہ نوجوان امیدوار میدان میں اتارے گی تاکہ وہ بے باکی کے ساتھ عوام کی نمائندگی کر سکیں۔ اسی موقع پر سنبھل کی شاہی جامع مسجد کمیٹی کے صدر ظفر علی ایڈووکیٹ نے اے آئی ایم آئی ایم میں شمولیت اختیار کی، جس کا اویسی نے خیرمقدم کیا۔

وزیراعظم نریندر مودی پر طنز کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ 2029 کے انتخابات کے بعد ملک کو تقریباً 42 یا 45 سال عمر کا نوجوان وزیراعظم ملے، نہ کہ 80 سال کا شخص۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو نئی سوچ اور نوجوان قیادت کی ضرورت ہے۔انہوں نے اتر پردیش کے محکمۂ مال کی اس مبینہ فہرست پر بھی سوال اٹھایا۔ جس میں ٹھاکردوارہ تحصیل کے 36 مساجد، مدارس، قبرستانوں اور مزارات کے خلاف کارروائی کی بات کہی گئی ہے۔ اویسی نے الزام لگایا کہ اس معاملے پر مقامی سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی خاموش ہیں اور عوام کے مسائل پر آواز نہیں اٹھا رہے۔وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پر تنقید کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ ان کی سیاست تقسیم پر مبنی ہے، جبکہ اے آئی ایم آئی ایم انصاف، مساوی حقوق اور نمائندگی کی سیاست کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کسی مذہب کے خلاف نہیں بلکہ اپنے آئینی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔اکھلیش یادو پر نشانہ سادھتے ہوئے اویسی نے کہا کہ اب ان کی جماعت کسی دوسری پارٹی کے پیچھے بیٹھنے والی نہیں۔ اگر اکھلیش یادو کرسی پر بیٹھیں گے تو وہ بھی برابر بیٹھ کر اپنے حقوق کی بات کریں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن واقعی بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنا چاہتی ہے تو اے آئی ایم آئی ایم اتحاد کے لیے تیار ہے اور بعد میں پچھتانے کے بجائے پہلے سنجیدگی سے فیصلہ کرنا چاہیے۔

اویسی نے جنتر منتر احتجاج کے دوران پیلٹ گن کے استعمال پر بھی شدید ناراضی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے کئی نوجوان زخمی ہوئے اور اس کے استعمال کا حکم دینے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کشمیر میں ماضی میں پیلٹ گن کے استعمال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ہزاروں افراد متاثر ہوئے تھے۔انہوں نے مرادآباد کی صحت کی سہولیات پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ شہر میں آج تک جدید میڈیکل کالج اور ایم آر آئی جیسی بنیادی سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے اسمارٹ سٹی منصوبے کی رفتار پر بھی سوال اٹھایا اور حکومت سے جواب طلب کیا۔خراب موسم اور بارش کے باعث برقی کرنٹ کے خدشے کے پیش نظر جلسہ گاہ میں بجلی بند رکھی گئی، جس کی وجہ سے پورا جلسہ اندھیرے میں ہوا۔ شرکا نے اپنے موبائل فون کی ٹارچیں روشن کرکے اویسی کا استقبال کیا، جبکہ بارش کے باوجود جلسے میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت دیکھنے میں آئی۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read