نئی دہلی : ملت اسلامیہ ہند کودرپیش مسائل پرغوروفکرکرتے ہوئے نمائندہ اجلاس میں میدان عمل میں اترنے کے لیے 51 رکنی کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی اجلاس میں فیصلہ لیا گیا ہے کہ تین مہینے بعد ایک بارپھرمیٹنگ ہوگی تاکہ مزید لائحہ عمل مرتب کیا جا سکے۔ یہ اطلاعات انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر، نئی دہلی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں سیاسی وملی شخصیات نے دین۔ آئی ایم سی آرکے چیئرمین اورسابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب کی کوششوں سے کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا میں منعقدہ ملت اسلامیہ ہند کو درپیش مسائل پرتبادلہ خیال کرنے کے بعد ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں محمد ادیب کے علاوہ جموں وکشمیرکی سابق وزیراعلی محبوبہ مفتی، سابق مرکزی وزیرسلمان خورشید، تلگانہ کے وزیراعلی کے مشیرمحمد علی شبیر، جماعت اسلامی ہند کے نائب صدرملک معتصم خان، مجلس علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا کلب جواد، درگاہ اجمیرکے گدی نشین سرورچشتی، سابق مرکزی وزیرعلی اشرف فاطمی، اے پی سی آر کے کنوینرندیم خان، آئی ایم سی آرکے جنرل سکریٹری محمد اعظم بیگ وغیرہ نے شرکت کی۔
پورے ملک کو جموں وکشمیر بنا دیا ہے: محبوبہ مفتی
محبوبہ مفتی نے کہا کہ جب جموں وکشمیرمیں ظلم وزیادتی ہورہی تھی تو پورا بھارت خاموش تھا اوراب پورا بھارت جموں وکشمیربنا دیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ 2019 میں آئین بدلنے کے بعد جوجموں وکشمیرمیں ہورہا ہے اب پورے ملک میں ہونے جا رہا ہے۔ پارٹیوں کوتوڑا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بات مسلم کی نہیں ہے آنے والے دنوں میں ہندوبھائیوں کے ووٹوں کی قیمت بھی نہیں رہے گی۔ جنترمنترپردھرنا دینے والے بچوں نے ہمیں سکھایا ہے کہ ہندومسلم سے اوپراٹھ کرملک کے لیے کھڑے ہونا ہے۔
آئیڈیا آف انڈیا کونظراندازکرنے سے ملک تباہ ہوجائے گا: محمد ادیب
سلمان خورشید نے کہا کہ جمہوری طریقہ کاراپنا کر ہم حکومت سے بات کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرحکومت بات چیت کرتی توآج بچوں کوجنترمنترپردھرنا نہیں کرنا پڑتا۔ بات چیت کوکیسے آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے ہم نے کوشش کی ہے۔ محمد ادیب نے کہا کہ یہ پہلی بارہوا ہے کہ ملت اسلامیہ ہند کی اہم شخصیات ایک پلیٹ فارم پربیٹھی کیونکہ اب پانی سرکے اوپرچلا گیا۔ یہ سلسلہ جلسہ نہیں تھا بلکہ غوروفکرکے لیے تقریب تھی۔ آج سرکاری اداروں پرقبضہ ہورہا ہے، اس کوبرباد کیا جا رہا ہے۔ آرایس ایس کے لوگ اب تقرری کررہے ہیں۔ جامعہ اورعلی گڑھ، جوہریونیورسٹی تک میں قبضہ ہوگیا ہے۔ جامعہ میں ساورکرکا 100 سالہ جشن منایا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج قوم متحد ہوکرسرکارسے مانگ کررہی ہے کہ آئیڈیا آف انڈیا کونظراندازمت کیجئے ورنہ ملک تباہ ہوجائے گا۔
مدارس کو نشانہ بنا رہی ہے موجودہ حکومت: علی اشرف فاطمی
علی اشرف فاطمی نے اجلاس کی کامیابی کے لیے محمد ادیب کومبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں تعلیمی اداروں کے سلسلہ میں کہنا چاہتا ہوں کہ موجودہ سرکارکام نہیں کررہی ہے ، بجٹ بڑھانے کی بجائے کم کررہی ہے۔ مدرسوں کونشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جوہریونیورسٹی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ملک معتصم خان نے بھی اجلاس کوکامیاب بتایا اورکہا کہ متحد ہوکرآگے بڑھنا ہے۔ ظلم و زیادتی کے خلاف مضبوطی سے آواز بلند کرنی ہے۔ سرورعلی چشتی نے کہا کہ درگاہ اجمیرشریف وہ ہے جوسیکولرازم اور جمہوریت وآئین کا پاسدارہے، لیکن 2007 میں اس پرحملہ کیا گیا اوراب اس کومندرکہا جا رہا ہے، جوشرمناک ہے۔ اب ہم کچھ بولتے ہیں تو ہمیں جہادی کہا جاتا ہے، ہمیں ملک مخالف کہا جاتا ہے، ہمیں دہشت گرد کہا جاتا ہے۔لیکن کیا اس ڈر سے ہم چپ ہوجائیں ، نہیں ۔ ہمیں بولنا پڑے گا۔ہم حسینی ہیں توظلم کے خلاف خاموش نہیں رہ سکتے۔
تمام سیاسی پارٹیوں نے مسلمانوں کو تباہ کیا: مولانا کلب جواد
مولانا کلب جواد نے کہا کہ بی جے پی کی طرح کانگریس بھی مسلمانوں کی مجرم ہے، اس نے سب سے زیادہ ظلم کیا اورہمیں تباہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں ہندووں کوساتھ لے کراپنے مسائل کوحل کرنا ہوگا۔ صرف مسلم حکومت سے نہیں لڑسکتے۔ محمد علی شبیرنے کہا کہ جس طرح ہم ملک کی آزادی کے لیے متحد ہوکرلڑے، تلنگانہ کے لئے لڑے، ویسے ہی آج ہمیں ملک میں جاری ناانصافی اورظلم کے خلاف مل کرلڑنا ہے۔ اپنے آئین کی حفاظت کے لئے لڑنا ہے۔ اس کے علاوہ حاجی رشید احمد چودھری آسام،سابق وزیر آئی اے ایس انیس انصاری ، اے پی سی آرکے کنوینرندیم خان نے بھی اپنے خیالات کااظہار کیا۔ آخر میں محمد اعظم بیگ نے صحافیوں کا شکریہ ادا کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


