Urdu Conclave 2026

NEET paper leak: طلبہ پر لاٹھیاں نہیں، جواب چاہیے، سونیا گاندھی کا مودی حکومت پر بڑا حملہ، کہا: تعلیمی نظام شدید بحران کا شکار

سونیا گاندھی نے کہا کہ یہ طلبہ ملک کا مستقبل ہیں، دشمن نہیں۔ حکومت کو ان کے تحفظات سننے اور مسائل کا حل نکالنے کے لیے مذاکرات کرنے چاہیے تھے، مگر اس نے جبر کا راستہ اختیار کیا۔سونیا گاندھی نے الزام لگایا کہ مودی حکومت کسانوں، سماجی کارکنوں اور دیگر احتجاج کرنے والوں کی طرح طلبہ کی آواز کو بھی طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔

نئی دہلی : کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی نے نیٹ پیپر لیک، امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں اور طلبہ کے احتجاج کو لے کر مرکزی حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں سے ملک بھر کے طلبہ پرامن طریقے سے پیپر لیک اور تعلیمی نظام کی خرابیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، لیکن حکومت نے ان کے سوالوں کا جواب دینے کے بجائے طاقت کے استعمال کا راستہ اختیار کیا۔سونیا گاندھی نے کہا کہ 20 جولائی 2026 کو دہلی میں احتجاج کرنے والے طلبہ پر دہلی پولیس اور مرکزی سیکورٹی فورسز نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ ان کے مطابق متعدد پرامن مظاہرین زخمی ہوئے، یہاں تک کہ گھروں کو واپس جانے والے طلبہ کو بھی نہیں بخشا گیا۔ انہوں نے کہا کہ زخمی نوجوانوں کی تصاویر نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، مگر حکومت اور اس کے حامی میڈیا نے اس تحریک کو مختلف رنگ دینے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ یہ طلبہ ملک کا مستقبل ہیں، دشمن نہیں۔ حکومت کو ان کے تحفظات سننے اور مسائل کا حل نکالنے کے لیے مذاکرات کرنے چاہیے تھے، مگر اس نے جبر کا راستہ اختیار کیا۔سونیا گاندھی نے الزام لگایا کہ مودی حکومت کسانوں، سماجی کارکنوں اور دیگر احتجاج کرنے والوں کی طرح طلبہ کی آواز کو بھی طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ڈاکٹر، انجینئر، اساتذہ، سول سرونٹس اور صنعت کار بننے کا خواب دیکھنے والے نوجوانوں سے بات چیت کرنے کے بجائے ان پر پولیس کارروائی کی گئی، جو ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہر اختلافی آواز کو ملک دشمن قرار دینے کی پرانی حکمت عملی پر عمل کر رہی ہے اور طلبہ کی تحریک کو بھی سازش یا سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اپنی پالیسیوں پر سنجیدگی سے غور کرے۔

سونیا گاندھی نے الزام عائد کیا کہ مودی حکومت کے دور میں سرکاری تعلیمی نظام مسلسل کمزور ہوا ہے۔ ان کے مطابق اسکولی تعلیم پر سرکاری بجٹ کا حصہ تقریباً 50 فیصد اوراعلیٰ تعلیم پرخرچ کا حصہ 33 فیصد تک کم ہو چکا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 12 برسوں میں تقریباً ایک لاکھ سرکاری اسکول بند ہوئے، جب کہ 43 ہزار نجی اسکول قائم کیے گئے، جن میں بڑی تعداد راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور اس سے وابستہ تنظیموں کے زیر انتظام ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کی مالی معاونت میں کمی کے باعث جامعات کو قرض لینا پڑا اور طلبہ کی فیس میں اضافہ کرنا پڑا، جس سے غریب اور متوسط طبقے کے لیے اعلیٰ تعلیم مزید مہنگی ہو گئی ہے۔سونیا گاندھی نے امتحانی نظام پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ملک کا امتحانی ڈھانچہ حد سے زیادہ مرکزیت، نجکاری اور سیاسی مداخلت کا شکار ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) عملے کی کمی سے دوچار ہے اور نجی ایجنسیوں پر انحصار کر رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 12 برسوں میں ملک بھر میں 152 پیپر لیک کے واقعات سامنے آئے، جن میں این ٹی اے کے قیام کے بعد اس کے ذریعے منعقد کرائے گئے نو امتحانات بھی شامل ہیں۔

روزگار کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے سونیا گاندھی نے کہا کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع مسلسل کم ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق نوجوان گریجویٹس میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 40 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ جامعات میں سیاسی بنیادوں پر تقرریوں اور جدید تقاضوں، خصوصاً مصنوعی ذہانت (اے آئی)، کے مطابق تعلیمی اصلاحات نہ ہونے سے نظام مزید کمزور ہوا ہے۔آخر میں انہوں نے الزام لگایا کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 کو وسیع مشاورت اور پارلیمانی بحث کے بغیر نافذ کیا گیا، جبکہ این ٹی اے بھی پارلیمانی قانون کے ذریعے قائم نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی ناکامیوں کے باوجود مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے نہ تو ذمہ داری قبول کی اور نہ ہی استعفیٰ دیا۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

    Tags:

Also Read