لکھنؤ: مولانا جرجیس انصاری کی جانب سے بھگوان شری کرشن کے بارے میں دیے گئے متنازع بیان کے معاملے میں لکھنؤ کے حضرت گنج تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ہندو رہنما ششیِر چترویدی کی شکایت پر تھانہ انچارج وکرم سنگھ نے بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعات 302 اور 66 کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے۔
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد تنازع
مولانا جرجیس انصاری کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، جس میں مبینہ طور پر انہوں نے کہا تھا، ’’شری کرشن مسلمان تھے اور پانچ وقت کی نماز ادا کرتے تھے۔‘‘ اس بیان کے منظرعام پر آنے کے بعد مختلف ہندو تنظیموں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
وی ایچ پی نے ظاہر کیا سخت ردعمل
اس سے قبل وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے رہنما ونود بنسل نے بھی مولانا جرجیس انصاری کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا تھا۔ آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے ونود بنسل نے کہا کہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس سے قبل مولانا ارشد مدنی نے بھی دہلی میں ایک تقریب کے دوران بھگوان شیو کے بارے میں متنازع تبصرہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا، ’’مولانا جرجیس جیسے لوگوں کو شرم نہیں آتی۔ ایسے افراد مسلسل بے ہودہ بیانات دیتے رہتے ہیں۔ حکومت اور انتظامیہ کو ان کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔‘‘
سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ
ونود بنسل نے الزام عائد کیا کہ کچھ لوگ مسلسل ہندو عقیدے اور مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی دوسرے مذہب کے بارے میں کوئی تبصرہ کیا جائے تو شدید ردعمل سامنے آتا ہے، لیکن ہندو دیوی دیوتاؤں کے بارے میں قابل اعتراض بیانات دیے جاتے ہیں، جو قطعی ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے مولانا جرجیس انصاری کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
ادھر، بھارتیہ جنتا پارٹی کے کئی لیڈران اور مختلف ہندو تنظیموں نے بھی اس بیان کی مذمت کرتے ہوئے مولانا جرجیس انصاری کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
