نئی دہلی: اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی نے حلفیہ بیان میں اس بات کی سختی سے تردید کی ہے کہ ان کے خلاف امریکی فوجداری مقدمہ واپس لینے کے لیے کسی قسم کا وعدہ، معاہدہ یا سودے بازی ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس فیصلے سے متعلق کسی بھی لین دین یا مفاہمت کے بارے میں کوئی علم نہیں۔
عدالت کے حکم پر حلفیہ بیان جمع
یہ حلفیہ بیان 8 جولائی کو نیویارک کے مشرقی ضلع کی امریکی ضلعی عدالت کے حکم کے جواب میں جمع کرایا گیا، جس میں عدالت نے اڈانی سے حلف کے تحت یہ واضح کرنے کو کہا تھا کہ انہیں فردِ جرم واپس لینے کے سلسلے میں کسی وعدے، پیشکش یا معاہدے کی کوئی معلومات ہیں یا نہیں۔
اڈانی نے اپنے بیان میں کہا کہ انہیں اس مقدمے کے خاتمے کے سلسلے میں کسی بھی شخص کی جانب سے کسی وعدے، پیشکش، مطالبے، وصولی، معاہدے یا قبولیت کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ انہوں نے اس بات سے بھی انکار کیا کہ فوجداری الزامات ختم کرنے کے بدلے کسی قیمتی چیز کے تبادلے سے متعلق کوئی معاہدہ ہوا تھا۔
رشوت ستانی کے الزامات کی تردید
امریکی محکمۂ انصاف نے بائیڈن انتظامیہ کے دوران 2024 میں دائر مقدمہ واپس لینے کی درخواست دی تھی۔ اس مقدمے میں گوتم اڈانی سمیت آٹھ افراد پر الزام تھا کہ انہوں نے بھارتی حکام کو تقریباً 25 کروڑ امریکی ڈالر رشوت دینے کی مبینہ سازش کی تاکہ بجلی کی فراہمی کے معاہدے حاصل کیے جا سکیں، اور امریکی منڈیوں سے سرمایہ اکٹھا کرتے وقت سرمایہ کاروں کو گمراہ کیا گیا۔ گوتم اڈانی پہلے بھی ان تمام الزامات کی تردید کر چکے ہیں۔
گوتم اڈانی نے کہا کہ امریکہ میں 10 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ 13 نومبر 2024 کو عوامی طور پر اعلان کیا گیا تھا، یعنی اس سے پہلے کہ فردِ جرم منظر عام پر آتی۔ حلفیہ بیان کے مطابق اڈانی کے وکلاء نے امریکی محکمۂ انصاف اور امریکی سکیورٹیز و ایکسچینج کمیشن کے حکام سے متعدد ملاقاتیں کیں اور ایک وائٹ پیپر، ماہرین کی رپورٹس اور دیگر دستاویزات پیش کیں۔ وکلاء نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ اگر امریکی حکام مناسب سمجھیں تو مجوزہ سرمایہ کاری کسی ممکنہ تصفیے کا حصہ بن سکتی ہے۔ تاہم بعد میں محکمۂ انصاف نے واضح کر دیا کہ مقدمہ واپس لینے یا نہ لینے کے فیصلے میں اس سرمایہ کاری کو زیرِ غور نہیں لایا جائے گا، اور اڈانی کے مطابق اس منصوبے نے فیصلے پر کوئی اثر نہیں ڈالا۔
محکمۂ انصاف نے خبروں کو غلط قرار دیا
4 جولائی کو امریکی محکمۂ انصاف نے بھی عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویز میں ان خبروں کو غلط قرار دیا تھا جن میں کہا گیا تھا کہ مقدمہ واپس لینے کا فیصلہ اڈانی گروپ کی مجوزہ امریکی سرمایہ کاری سے منسلک ہے۔ محکمے نے کہا کہ مقدمے کو قانونی اور ثبوتی مشکلات کا سامنا تھا، کیونکہ مبینہ واقعات زیادہ تر بھارت میں پیش آئے، سرمایہ کاروں کے نقصان کا کوئی ثبوت نہیں ملا، اور معاملہ پہلے ہی بھارت میں زیرِ تفتیش تھا۔ محکمے نے یہ بھی کہا کہ فردِ جرم بائیڈن انتظامیہ کے آخری دنوں میں محض نام ظاہر کرنے کی کارروائی کے طور پر سامنے لائی گئی تھی، جبکہ حتمی فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کے حصے میں آیا۔
مزید وضاحت چاہتی ہے عدالت
نومبر 2024 میں فردِ جرم سامنے آنے کے بعد اڈانی گروپ کے شیئرز میں شدید گراوٹ آئی تھی، جس سے صرف چار تجارتی دنوں میں تقریباً دو لاکھ پچاسی ہزار کروڑ روپے کی مارکیٹ قدر ختم ہو گئی تھی اور لاکھوں سرمایہ کار متاثر ہوئے تھے۔ اب امریکی محکمۂ انصاف مقدمہ مستقل طور پر ختم کرنے کی درخواست کر چکا ہے۔ تاہم امریکی ضلعی جج نکولس گاراؤفس نے اڈانی سے وضاحت طلب کی کہ مقدمہ واپس لینے کے فیصلے کے پیچھے کسی وعدے، مفاہمت، فائدے یا معاہدے کا کوئی تعلق تھا یا نہیں۔ جج نے 15 جولائی تک حلفیہ بیان جمع کرانے کی ہدایت دی تھی تاکہ وہ مقدمہ مستقل طور پر ختم کرنے کی درخواست پر فیصلہ کر سکیں۔
محکمۂ انصاف کے اعلیٰ عہدیدار کا موقف
پرنسپل ایسوسی ایٹ ڈپٹی اٹارنی جنرل آر ٹرینٹ میک کوٹر نے عدالت کو بتایا کہ مقدمہ واپس لینے کا فیصلہ صرف انہی کا تھا اور میڈیا میں آنے والی یہ خبریں غلط ہیں کہ یہ فیصلہ اڈانی گروپ کی مجوزہ 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے باعث کیا گیا۔
انہوں نے لکھا، ’’یہ کہنا غلط ہے کہ میں نے امریکی سرمایہ کاری کے کسی وعدے کی وجہ سے سکیورٹیز سے متعلق الزامات واپس لینے کی سفارش کی۔ میں کسی بھی سرمایہ کاری کے ذکر سے قطع نظر یہی فیصلہ کرتا، کیونکہ ممکنہ سرمایہ کاری کا اس فیصلے میں کوئی کردار نہیں تھا۔‘‘
میک کوٹر کے مطابق سکیورٹیز فراڈ کا مقدمہ قانونی طور پر ناقابلِ دفاع تھا، کیونکہ زیادہ تر مبینہ کارروائیاں بھارت میں ہوئیں، بھارتی حکام کو کوئی قابلِ کارروائی بے ضابطگی نہیں ملی، سرمایہ کاروں کو نقصان نہیں پہنچا، اہم شواہد اور گواہ امریکہ سے باہر تھے اور ملزمان کے امریکی عدالت میں پیش ہونے کے امکانات بھی کم تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ غیر ملکی بدعنوانی کے انسداد سے متعلق قانون کے تحت عائد الزامات بھی ٹرمپ انتظامیہ کی موجودہ ترجیحات سے مطابقت نہیں رکھتے، جو امریکی قومی سلامتی، امریکی کمپنیوں اور بین الاقوامی مجرمانہ تنظیموں سے متعلق مقدمات پر مرکوز ہیں۔
تاہم جج گاراؤفس نے کہا کہ میک کوٹر کے بیان سے پہلی بار یہ امکان سامنے آیا ہے کہ مقدمہ ختم کرنے کے سلسلے میں کسی نہ کسی نوعیت کا معاہدہ موجود ہو سکتا تھا، حالانکہ عدالت کو اس بارے میں پہلے کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ جج نے کہا کہ مقدمہ ختم کرنے کی درخواست منظور کرنے سے پہلے عدالت کو یہ اطمینان ہونا چاہیے کہ محکمۂ انصاف کی وجوہات حقیقی ہیں اور کسی خفیہ معاہدے نے اس فیصلے پر اثر انداز نہیں ہوا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




