دہلی حکومت نے اسکولی بچوں کے تحفظ کے لیے ایک نئی مہم کا آغاز کیا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ ریکھا گپتا نے اعلان کیا ہے کہ پورے جولائی مہینے کو ’پوکسو (POCSO) بیداری ماہ‘ کے طور پر منایا جائے گا۔ اس مہم کا مقصد بچوں کو جنسی استحصال اور بدسلوکی سے محفوظ رکھنے کے لیے انہیں بیدار کرنا اور اسکولوں میں حفاظتی ضوابط کو مؤثر انداز میں نافذ کرنا ہے۔
ہر آفس میں ہوگی گڈ ٹچ – بیڈ ٹچ کی کلاس
حکومت کی ہدایت کے مطابق جولائی کے دوران دہلی کے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں میں’گڈ ٹچ، بیڈ ٹچ‘ کے موضوع پر خصوصی بیداری سیشن منعقد کیے جائیں گے۔ ان کلاسوں میں بچوں کو ان کی عمر کے مطابق آسان زبان میں محفوظ اور غیر محفوظ لمس کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا، تاکہ وہ کسی بھی نامناسب رویے کی بروقت پہچان کر سکیں اور اس کی اطلاع اپنے والدین، اساتذہ یا دیگر قابلِ اعتماد افراد کو دے سکیں۔
15 دن میں دینی ہوگی کمپلائنس رپورٹ
وزیرِ اعلیٰ نے بتایا کہ تمام اسکولوں کو بچوں کے تحفظ سے متعلق ضروری حفاظتی ضوابط پر عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا۔ اس کے علاوہ مہم کے تحت کیے گئے اقدامات کی 15 دن کے اندر کمپلائنس رپورٹ بھی حکومت کو جمع کرانی ہوگی، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ تمام تعلیمی ادارے حکومتی ہدایات پر مؤثر طریقے سے عمل کر رہے ہیں۔ریکھا گپتا نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ “دہلی کا پوکسو بیداری ماہ محض ایک آگاہی مہم نہیں بلکہ بچوں کو جنسی استحصال اور بدسلوکی سے محفوظ رکھنے کی ایک جامع کوشش ہے۔” ان کے مطابق اس مہم کا مقصد ایسا محفوظ اور حساس ماحول فراہم کرنا ہے جہاں بچے بلا خوف اپنی بات کہہ سکیں۔
حکومت نے اس مہم کو صرف اسکولوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس میں والدین، اساتذہ، دہلی پولیس، ضلع مجسٹریٹس اور آنگن واڑی کارکنوں کی فعال شمولیت بھی یقینی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ تمام متعلقہ فریقوں کے مشترکہ تعاون سے بچوں کے تحفظ کے حوالے سے شہر بھر میں ایک مضبوط اور مؤثر عوامی بیداری مہم قائم کی جا سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
