Bharat Express DD Free Dish

POCSO

دہلی حکومت نے پورے جولائی کو پوکسو (POCSO) بیداری ماہ قرار دیتے ہوئے تمام اسکولوں میں 'گڈ ٹچ، بیڈ ٹچ' سے متعلق بیداری سیشن لازمی کر دیے ہیں۔ وزیرِ اعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا کہ یہ مہم بچوں کو جنسی استحصال اور بدسلوکی سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک جامع اور اہم اقدام ہے۔

یہ معاملہ تھانہ شادیا باد علاقے کا ہے جہاں 20 جولائی 2025 کو ایک نابالغ بچی کے ساتھ اس کے سوتیلے باپ اشوک بنواسی نے گھناؤنا جرم کیا۔ اسی دن ایف آئی آر درج کی گئی اور اگلے ہی دن یعنی 21 جولائی کو ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ تفتیش انسپکٹر شیام جی یادو نے درست فورنسک اور زبانی شواہد کی بنیاد پر کی، جس سے کیس کی مضبوط پیروی ممکن ہو سکی۔

حال ہی میں دستیاب ہونے والے 31 جولائی کے ایک حکم میں، عدالت نے کہا کہ لڑکے بھی لڑکیوں کی طرح ہی جنسی زیادتی اور استحصال کو لے کر حاساس ہوتے ہیں اور وہ بھی جنسی استحصال جیسے گھناؤنے جرم کے لیے اتنے ہی حساس ہوتے ہیں۔ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ صرف لڑکیوں کو ہی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ حالانکہ، یہ ایک متھ ہے۔

ملزم پر جنسی زیادتی، تعاقب (stalking)، عزتِ نفس مجروح کرنے اور ایس سی/ایس ٹی (انسدادِ مظالم) ایکٹ کے تحت مقدمہ درج تھا۔

دہلی کی ایک عدالت نے جمعرات کو POCSO ایکٹ کیس میں ایک کلوزر رپورٹ کو قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ شکایت جھوٹی تھی اور لڑکی نے اپنے خاندان کے دباؤ میں یہ شکایت کی تھی۔

پٹیالہ ہاؤس کورٹ کی اسپیشل جج (POCSO) چھوی کپور کا تبادلہ خصوصی جج کے طور پر راؤس ایونیو کورٹ میں کیا گیا ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج جتیندر سنگھ کو خصوصی جج کے طور پر راؤس ایونیو منتقل کر دیا گیا ہے۔

متاثرہ کی وکیل رچا اسمرتی نے کہا کہ 2023 میں ایک نابالغ لڑکی نے مظفر پور کی خصوصی پوکسو عدالت میں سابق وزیر کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔

عدالت نے سماعت کے دوران اس کیس کی حقیقت پر بھی سوالات اٹھائے۔ عدالت نے کہا کہ جس طرح سے معاملات ہوئے ہیں اس سے شبہ ہے کہ اس معاملے میں کچھ چھپا ہوا ہے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے اے جی نے کہا کہ کچھ بھی چھپا نہیں ہے۔

جسٹس انوپ کمار ڈھنڈ کی بنچ نے بدھ کو دیے گئے اپنے حکم میں کہا کہ متاثرہ کے عدالت میں آنے میں تاخیر نے حمل ختم کرنے کے پہلو کو مزید تشویشناک بنا دیا ہے۔ ریکارڈ پر کوئی ایسا مواد دستیاب نہیں ہے جس کی بنیاد پر یہ عدالت میڈیکل بورڈ کی رائے سے مختلف کوئی رائے ظاہر کر سکے۔

عینی شاہدین کے مطابق جب ڈیمالیشن اسکواڈ بڈھولیا کے گھر پہنچا تو اس کے اہل خانہ نے حکام سے درخواست کی کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی کوئی کارروائی کی جائے تاہم انتظامیہ نے غیر قانونی مکانات کو مسمار کردیا