دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں ٹنڈر ایپ کے ذریعے ہونے والی دوستی اور تقریباً 52.81 لاکھ روپے کی مبینہ دھوکہ دہی کے معاملے نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ اس ہائی پروفائل کیس میں عدالت نے ملزم دیپک وتس کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ تاہم معاملہ صرف ضمانت تک محدود نہیں رہا بلکہ عدالت نے تفتیشی عمل اور ایک خاتون عدالتی افسر کے مبینہ طرزِ عمل پر بھی اہم مشاہدات درج کیے ہیں۔
ای-ایف آئی آر اور شکایت پر عدالت کے سوالات
سماعت کے دوران ایڈیشنل سیشن جج نے کہا کہ یہ معاملہ عام سائبر فراڈ جیسا دکھائی نہیں دیتا۔ عدالت نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ شکایت ای-ایف آئی آر کے ذریعے درج کرائی گئی، لیکن اس میں متاثرہ خاتون کے بجائے ان کی گھریلو ملازمہ کا نام استعمال کیا گیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ایک عدالتی افسر سے شفافیت اور قانون کی مکمل پاسداری کی توقع کی جاتی ہے، اس لیے براہِ راست سامنے آنے کے بجائے کسی دوسرے شخص کے نام سے شکایت درج کرانا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
’ہنی ٹریپ‘ جیسے پہلوؤں کی نشاندہی
عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا کہ دستیاب ریکارڈ سے دونوں فریقوں کے درمیان قریبی تعلقات کے آثار ملتے ہیں اور معاملہ کئی حوالوں سے ’’ہنی ٹریپ‘‘ جیسی صورتحال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے تفتیشی ایجنسی کی کارکردگی پر بھی ناراضی ظاہر کی۔عدالت کے مطابق اب تک اہم ڈیجیٹل شواہد، جیسے واٹس ایپ چیٹس، ٹنڈر چیٹ ہسٹری اور کال ڈیٹیل ریکارڈ مکمل طور پر جمع نہیں کیے جا سکے ہیں۔ دوسری جانب ملزم دیپک وتس نے اپنا موبائل فون پاس ورڈ فراہم کرنے سے انکار کیا، جس کے باعث تفتیش متاثر ہوئی ہے۔
5 لاکھ روپے کی نقد رقم پر بھی سوال
سماعت کے دوران عدالت نے اس 5 لاکھ روپے کی نقد رقم پر بھی سوالات اٹھائے، جو ہریانہ کے نارناول میں ایک عدالتی افسر کے ملازم کی جانب سے جمع کرائی گئی تھی۔ عدالت نے کہا کہ اس رقم کے ماخذ کی آزادانہ تحقیقات ضروری ہیں تاکہ حقائق مکمل طور پر سامنے آ سکیں۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
پولیس کے مطابق ملزم دیپک وتس نے ٹنڈر پر خود کو ایک خفیہ سرکاری ادارے کا افسر ظاہر کرتے ہوئے خاتون عدالتی افسر سے رابطہ قائم کیا۔ بعد ازاں اعتماد حاصل کرکے سرمایہ کاری اور دیگر بہانوں سے مجموعی طور پر 52.81 لاکھ روپے اپنے اکاؤنٹس میں منتقل کروا لیے۔ دوسری جانب ملزم کا مؤقف ہے کہ دونوں کے درمیان تعلقات باہمی رضامندی پر مبنی تھے اور رقم بھی رضاکارانہ طور پر دی گئی تھی۔فی الحال عدالت نے واضح کر دیا ہے کہ الزامات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ملزم کو ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ ساتھ ہی تفتیشی ایجنسی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ چار ہفتوں کے اندر تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کرے، جس کے بعد اس معاملے میں مزید اہم انکشافات سامنے آنے کا امکان ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

