وزیر اعظم نریندر مودی کے پانچ ممالک کے حالیہ سفارتی دورے کا آخری مرحلہ اٹلی تھا، جہاں روم پہنچنے پر اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے ان کا نہایت گرمجوشی سے استقبال کیا۔ اس ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ تعلقات، دفاعی تعاون، تجارت، ٹیکنالوجی، توانائی اور عالمی چیلنجز سمیت کئی اہم موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ سیاسی اور سفارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں مودی اور میلونی کے درمیان ہونے والی مسلسل ملاقاتوں نے بھارت اور اٹلی کے تعلقات کو تاریخی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے، جس کے اثرات اب بین الاقوامی سیاست میں بھی نمایاں دکھائی دینے لگے ہیں۔ اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے بدھ کے روز کہا کہ بھارت اور اٹلی اپنی مضبوط اسٹریٹجک شراکت داری اور ثقافتی رشتوں کو مزید گہرا کر کے عالمی چیلنجز کا زیادہ مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ انہوں نے میلونی کے ساتھ مشترکہ اوپ ایڈ تحریر کیا ہے، جس میں دونوں ممالک کے تعلقات کی موجودہ بلندی اور مستقبل کی سمت کو واضح کیا گیا ہے۔
وزیراعظم مودی کے اس دورے کی سب سے دلچسپ اور زیادہ زیر بحث رہنے والی بات اطالوی وزیراعظم کو بھارت کی مقبول ٹافی میلوڈی تحفے میں دینا رہی۔ اس موقع کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی، جس میں مودی، میلونی کو میلوڈی ٹافی پیش کرتے نظر آئے جبکہ میلونی نے بھی مسکراتے ہوئے اس تحفے کی تعریف کی۔ ماہرین کے مطابق یہ ایک معمولی تحفہ نہیں بلکہ دونوں ممالک کے تعلقات میں بڑھتی ہوئی قربت اور دوستانہ ماحول کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی امور پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ مودی نے حالیہ دورے میں میلونی کو میلوڈی ٹافی دی، مگر بھارت اور اٹلی کے تعلقات میں اصل مٹھاس کی بنیاد نومبر 2022 میں اس وقت پڑی تھی، جب انڈونیشیا کے شہر بالی میں منعقدہ جی-20 سربراہی اجلاس کے دوران دونوں رہنماؤں کی پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ یہی وہ موقع تھا جب جارجیا میلونی نے پہلی بار بھارت کے ساتھ قریبی تعلقات میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔
ماہرین کے مطابق اس پہلی ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان اب تک سات اہم ملاقاتیں ہو چکی ہیں، جنہوں نے نہ صرف دوطرفہ تعلقات کی رفتار کو تیز کیا بلکہ بھارت اور اٹلی کی اسٹریٹجک شراکت داری کو بھی نئی سمت دی۔ اس دوران گرین ہائیڈروجن، سپلائی چین، جدید ٹیکنالوجی اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کے کئی اہم فیصلے لیے گئے۔ دوسری اہم ملاقات 2023 میں اس وقت ہوئی جب جارجیا میلونی بھارت کے معروف ”رائسینا ڈائیلاگ“ میں شرکت کے لیے نئی دہلی آئیں۔ اسی دورے کے دوران بھارت اور اٹلی نے باضابطہ طور پر اپنے تعلقات کو اسٹریٹجک پارٹنرشپ کا درجہ دیا، جسے دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک بڑی پیش رفت مانا گیا۔ ستمبر 2023 میں نئی دہلی میں منعقدہ جی-20 سربراہی اجلاس نے ان تعلقات کو مزید مضبوطی دی۔ اسی دوران اٹلی نے انڈیا-مڈل ایسٹ-یورپ اکنامک کوریڈور یعنی آئی ایم ای سی منصوبے میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ یہ راہداری بھارت کو سمندری راستے کے ذریعے براہ راست یورپ سے جوڑنے کا ایک بڑا منصوبہ ہے، جسے چین کے “بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو” کے متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اٹلی کا اس منصوبے میں شامل ہونا نہ صرف بھارت کی سفارتی کامیابی تھی بلکہ چین کے لیے بھی ایک اہم پیغام سمجھا گیا۔
اس کے بعد دبئی میں منعقدہ “کاپ-28” اجلاس اور جون 2024 میں اٹلی کے علاقے اپولیا میں ہونے والے جی-7 اجلاس کے دوران بھی مودی اور میلونی کے درمیان ملاقاتیں ہوئیں، جن میں دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔ دفاعی شعبے میں بھی بھارت اور اٹلی کی قربت میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک نے مشترکہ فوجی مشقوں، بحری سلامتی اور انٹیلی جنس شیئرنگ کو مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔ اطالوی دفاعی کمپنیاں اب بھارت میں فوجی سازوسامان کی مشترکہ تیاری میں دلچسپی دکھا رہی ہیں، جس سے “میک اِن انڈیا” مہم کو بھی تقویت مل رہی ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی بڑھتی فوجی طاقت اور یورپ میں اٹلی کی اسٹریٹجک حیثیت نے اس شراکت داری کو مزید اہم بنا دیا ہے۔
تجارتی تعلقات میں بھی مسلسل بہتری دیکھی گئی ہے۔ کووڈ-19 وبا کے بعد 2020-21 میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت تقریباً 8.5 ارب یورو تھی، جو 2021-22 میں بڑھ کر 13.2 ارب یورو سے تجاوز کر گئی۔ 2023-24 میں یہ تجارت 14.6 ارب یورو تک پہنچ گئی، جبکہ 2025-26 میں دوطرفہ تجارت 14.25 ارب یورو پر مستحکم رہی۔ اس عرصے میں بھارت کو تجارتی توازن میں نمایاں فائدہ حاصل ہوا اور اٹلی کی جانب سے بھارت میں سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مودی اور میلونی کے درمیان مسلسل سفارتی رابطے صرف دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی تک محدود نہیں بلکہ یہ عالمی سیاست میں نئی صف بندیوں کا بھی اشارہ دے رہے ہیں، جہاں بھارت یورپ کے اہم ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو نئی جہت دے رہا ہے۔
بھارت ایکپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


