Bharat Express DD Free Dish

Special Strategic Partnership

مارکو روبیو نے کہا کہ بھارت امریکہ کے لیے بے حد اہم ملک ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان تعلقات نہایت خاص نوعیت کے ہیں اور یہ رشتہ طویل مدتی بنیادوں پر قائم ہے۔

وزیر اعظم مودی کا پانچ ممالک پر مشتمل تاریخی غیر ملکی دورہ مکمل ہوگیا ہے، جسے بھارت کی سفارتی، اقتصادی اور تزویراتی پالیسی کے لحاظ سے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ 15 مئی کو نئی دہلی سے روانہ ہونے والے وزیر اعظم نے متحدہ عرب امارات، نیدرلینڈز، سویڈن، ناروے اور اٹلی کا دورہ کیا۔

خبر لکھے جانے تک وزیر اعظم مودی کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اس ویڈیو کو 112 ملین یعنی 11.2 کروڑ سے زائد مرتبہ دیکھا جا چکا تھا۔ سوشل میڈیا صارفین نے اس ویڈیو کو نہ صرف دلچسپ قرار دیا بلکہ اسے دونوں رہنماؤں کے دوستانہ تعلقات کی ایک خوبصورت علامت بھی بتایا۔

وزیر اعظم مودی کے پانچ ممالک کے حالیہ سفارتی دورے کا آخری مرحلہ اٹلی تھا، جہاں روم پہنچنے پر اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے ان کا نہایت گرمجوشی سے استقبال کیا۔ اس ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ تعلقات، دفاعی تعاون، تجارت، ٹیکنالوجی، توانائی اور عالمی چیلنجز سمیت کئی اہم موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

وزیر اعظم مودی اور اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے بدھ کے روز اس عزم کا اظہار کیا کہ بھارت اور اٹلی اپنی گہری اسٹریٹجک شراکت داری، ثقافتی رشتوں اور مشترکہ جمہوری اقدار کی بنیاد پر عالمی چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکتے ہیں۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ بھارت اور اٹلی نے اپنے تعلقات کو اپ گریڈ کرتے ہوئے اسپیشل اسٹریٹجک پارٹنرشپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق اس ملاقات میں مستقبل کی شراکت داری کو مزید مضبوط اور جامع بنانے کے لیے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف کا اعادہ۔ دورے کے دوران اختراع، ثقافتی تبادلے، مینوفیکچرنگ، مصنوعی ذہانت اور دیگر شعبوں سمیت مجموعی طور پر 27 مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کیے گئے۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو نئی سمت اور رفتار دینے پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ گزشتہ سال باہمی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے، جبکہ جلد ہی آزاد تجارتی معاہدہ (فری ٹریڈ ایگریمنٹ) کو بھی حتمی شکل دی جائے گی۔