نئی دہلی : بھارت اور مصر کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات مسلسل مضبوط ہوتے جا رہے ہیں۔ ممبئی کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں منعقدہ بزنس ڈیلیگیشن میٹنگ میں دونوں ممالک کے نمائندوں نے تجارت، سرمایہ کاری، سیاحت، توانائی اور فارماسیوٹیکل شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر زور دیا۔ اس موقع پر دونوں ممالک نے آنے والے برسوں میں دوطرفہ تجارت کو 12 ارب ڈالر تک پہنچانے کے اپنے ہدف کو بھی دہرایا۔نیوز ایجنسی آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے ممبئی میں مصر کی قونصل جنرل ڈاہلیا محمد ناجح محمد توکل نے کہا کہ بھارت اور مصر کے درمیان تاریخی اور مضبوط دوطرفہ تعلقات موجود ہیں۔ انہوں نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر ممبئی میں منعقدہ “ڈوئنگ بزنس ود ایجپٹ” پروگرام کے انعقاد پر ڈاکٹر وجے کلانتری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات کو نئی سمت فراہم کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت اور مصر نے آئندہ چند برسوں میں باہمی تجارت کو 12 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ان کے مطابق جون 2023 میں دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کا معاہدہ ہوا تھا، جبکہ اکتوبر 2025 میں نئی دہلی میں اسٹریٹجک ڈائیلاگ بھی منعقد کیا گیا تھا۔ ان اقدامات کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔ڈاہلیا توکل نے کہا کہ توانائی، سیاحت، زراعت، فارماسیوٹیکل اور آٹوموبائل جیسے شعبوں میں بھارت اور مصر کے درمیان تعاون کی بے پناہ گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے خاص طور پر سویز کینال اکنامک زون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ علاقہ عالمی تجارت کا ایک بڑا مرکز بن رہا ہے اور بھارتی کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری اور کاروبار کے کئی مواقع فراہم کر رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی اور سیاحتی تبادلے میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ فارماسیوٹیکل شعبے میں دوطرفہ تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ مصر سے اسٹرابیری، انگور، کھاد اور الیکٹرانک وائر جیسی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے پر بھی زور دیا جا رہا ہے، اور کئی مصری کمپنیاں اس شعبے میں تیزی سے کام کر رہی ہیں۔
دوسری جانب ایم وی آئی آر ڈی سی ورلڈ ٹریڈ سینٹر ممبئی کے چیئرمین وجے کلانتری نے کہا کہ اس وقت بھارت اور مصر کے درمیان تقریباً 5 ارب ڈالر کی تجارت ہو رہی ہے، جسے دونوں ممالک 2030 تک بڑھا کر 12 ارب ڈالر تک لے جانے کی سمت میں کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فارماسیوٹیکل، کیمیکل، ٹیکسٹائل اور دیگر کئی شعبوں میں تجارت بڑھانے کے شاندار امکانات موجود ہیں۔ بھارتی کمپنیاں بھی مصر میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں، جس سے دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
وجے کلانتری نے کہا کہ سیاحت بھی دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا ایک اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق جب تجارت کے ساتھ ثقافت اور سیاحت کو بھی فروغ ملتا ہے تو اقتصادی تعلقات زیادہ تیزی سے آگے بڑھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور مصر طویل عرصے سے اسٹریٹجک شراکت دار رہے ہیں اور ان کے تعلقات مسلسل مضبوط ہو رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت اور مصر کے درمیان تجارت میں کوئی بڑی رکاوٹ موجود نہیں ہے۔ اگرچہ کچھ لاجسٹک چیلنجز ضرور ہیں، لیکن انہیں تیزی سے حل کیا جا رہا ہے۔ ویزا عمل، مال برداری اور عوامی آمد و رفت کو آسان بنانے کی کوششیں بھی جاری ہیں، جس سے مستقبل میں تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

