نئی دہلی: بھارت اور ویتنام نے باہمی اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے اہم پیش رفت کرتے ہوئے 2030 تک دو طرفہ تجارت کو 25 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ اعلان بدھ کے روز جاری مشترکہ بیان میں کیا گیا، جو وزیر اعظم نریندر مودی اور ویتنام کے صدر تو لام کے درمیان ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقات کے بعد سامنے آیا۔ ویتنامی صدر اس وقت سرکاری دورے پر بھارت میں موجود ہیں۔ مشترکہ بیان کے مطابق دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشتوں کے درمیان سرکاری اور صنعتی سطح پر تعاون کو مزید فروغ دیا جائے، تاکہ تجارت، سرمایہ کاری اور تکنیکی شراکت داری کو وسعت دی جا سکے۔ دونوں فریقین نے مارکیٹ تک رسائی کو آسان بنانے پر بھی زور دیا، جس کے تحت زرعی مصنوعات کی درآمد و برآمد کو سہل بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اس میں بھارت کے انگور اور انار جبکہ ویتنام کے ڈوریان اور پومیلو جیسے پھل شامل ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ویتنام اپنی سپلائی چین کو متنوع بنانے اور گھریلو پیداوار و برآمدی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بھارت سے درآمدات بڑھانے کا خواہاں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک نے کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے ضابطوں کو آسان بنانے اور معیارات کی تعمیل کو سہل بنانے کے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ آسیان-ہند اشیاء تجارت معاہدے (اے آئی ٹی آئی جی اے) کا جلد از جلد جائزہ مکمل کیا جائے تاکہ اسے موجودہ عالمی تجارتی حالات کے مطابق ڈھالا جا سکے اور دونوں فریقین کے لیے زیادہ فائدہ مند بنایا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق اس معاہدے کی اپ ڈیٹ دونوں معیشتوں کے درمیان تجارتی روابط کو نئی رفتار دے سکتی ہے۔
دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے پر بھی اتفاق کیا، جن میں اعلیٰ ٹیکنالوجی، ٹرانسپورٹ، مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس، قابل تجدید توانائی، اسمارٹ زراعت، الیکٹرک گاڑیاں، انفارمیشن ٹیکنالوجی، صحت، زرعی پروسیسنگ، آبی زراعت، سیاحت شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کے درمیان روابط مضبوط کرنے اور اختراعی مراکز کے درمیان تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔ تیل و گیس کے شعبے میں بھی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق ہوا ہے، جس کے تحت ویتنام میں نئے کنوؤں کی تلاش اور ترقی میں بھارتی کمپنیوں کی شرکت کو یقینی بنایا جائے گا، بشرطیکہ یہ ویتنامی قوانین اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ ای کامرس اور ڈیجیٹل معیشت کے بڑھتے ہوئے کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو عالمی ویلیو چین سے جوڑنے کے لیے پالیسی سطح پر تعاون بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
مشترکہ بیان میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ریزرو بینک آف انڈیا اور اسٹیٹ بینک آف ویتنام کے درمیان ڈیجیٹل ادائیگیوں اور مالیاتی جدت سے متعلق معاہدے کا خیر مقدم کیا گیا۔ دونوں ممالک نے کیو آر کوڈ پر مبنی ادائیگی نظام کو آپس میں مربوط کرنے پر اتفاق کیا، جس سے سیاحت اور تجارت کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک نے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر، 6جی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، خلائی تحقیق، ایٹمی ٹیکنالوجی، سمندری سائنس، بایوٹیکنالوجی، دواسازی، جدید مواد اور اہم معدنیات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا۔ رہنماؤں نے ماحولیاتی تبدیلی، پائیدار ترقی اور توانائی کے شعبے میں تبدیلی کو مدنظر رکھتے ہوئے صاف اور قابل تجدید توانائی میں مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر اتفاق کیا۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ دونوں ممالک نے جوہری توانائی کے پرامن استعمال کے شعبے میں جاری تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا اور مستقبل میں اسے مزید وسعت دینے کا عزم ظاہر کیا۔ اسی طرح ویتنام میں آسیان-ہند ٹریکنگ، ڈیٹا ریسیپشن اور ڈیٹا پروسیسنگ سہولیات کے قیام میں ہونے والی پیش رفت کا خیر مقدم کیا گیا۔ مزید برآں، نایاب معدنیات کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے آئی آر ای ایل (انڈیا) لمیٹڈ اور ویتنام کے متعلقہ ادارے کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو سراہا گیا اور اس پر جلد عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ مبصرین کے مطابق یہ شراکت داری دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


