Condolence Messages: ویتنام حکومت نے کشتی حادثے کے بعد بھارتی قیادت کے نام ارسال کیے تعزیتی پیغامات
ویتنام کے صدر اور وزیر اعظم نے کشتی حادثے کے بعد الگ الگ تعزیتی پیغامات بھیجتے ہوئے بھارتی عوام اور جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے صدر جمہوریہ دروپدی مرمو اور وزیر اعظم نریندر مودی سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
India-Vietnam Trade: بھارت-ویتنام تعلقات میں نئی پیش رفت، 2030 تک 25 ارب ڈالر تجارت کا ہدف مقرر، اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے پر زور
بھارت اور ویتنام نے باہمی اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے اہم پیش رفت کرتے ہوئے 2030 تک دو طرفہ تجارت کو 25 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ اعلان بدھ کے روز جاری مشترکہ بیان میں کیا گیا، جو وزیر اعظم نریندر مودی اور ویتنام کے صدر تو لام کے درمیان ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقات کے بعد سامنے آیا۔
PM Modi meets Vietnam President: وزیراعظم نریندر مودی کی ویتنام کے صدر تو لام سے ملاقات، جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے دس سال مکمل ہونے کے موقع پر اہم پیش رفت
صدر تو لام اپنے دورے کے دوران ممبئی بھی جائیں گے، جہاں وہ نیشنل اسٹاک ایکسچینج میں بزنس فورم میں شرکت کریں گے اور سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال کریں گے۔
Vietnam President to visit India: ہندوستان–ویتنام تعلقات میں پیش رفت، وزیراعظم نریندر مودی کی دعوت پر صدر تولام کا دورۂ ہند
ہندوستان اور ویتنام اپنی جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے 10 سال مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہیں۔ ہندوستان اور ویتنام کے درمیان تاریخی، تہذیبی اور اقتصادی روابط پہلے ہی مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں اور اس دورے سے توقع کی جا رہی ہے کہ یہ تعلقات مزید گہرے ہوں گے اور نئے شعبوں میں تعاون کے مواقع پیدا ہوں گے۔
PM congratulates To Lam: وزیراعظم نریندر مودی نے ویتنام کے صدر ٹولام کو دی مبارکباد، بھارت-ویتنام اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کا عزم
ٹو لام اس سے پہلے مئی 2024 سے اکتوبر 2024 تک بھی ویتنام کے صدر رہ چکے ہیں۔ انہیں 2024 میں پارٹی کی مرکزی قیادت میں اہم عہدہ دیا گیا تھا اور جنوری 2026 میں دوبارہ اسی ذمہ داری کے لیے منتخب کیا گیا۔ ٹو لام کے صدر بننے کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ بھارت اور ویتنام کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور دفاعی تعاون مزید مضبوط ہوگا اور خطے میں استحکام کو فروغ ملے گا۔





