چنئی: وجے کی قیادت والی تملگا ویٹری کزگم نے تمل ناڈو اسمبلی انتخابات میں نمایاں کامیابی کے بعد حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کر دیا ہے۔ بدھ کے روز وجے نے ریاست کے گورنر راجیندر وشواناتھ ارلیکر سے راج بھون چنئی میں ملاقات کی اور باضابطہ طور پر حکومت سازی کا دعویٰ پیش کیا۔ ٹی وی کے نے اپنے پہلے ہی انتخاب میں 234 رکنی اسمبلی میں 108 نشستیں حاصل کر کے سب کو حیران کر دیا۔ وجے نے خود تروچیراپلی ایسٹ اور پیرمبور دونوں نشستوں سے کامیابی حاصل کی، جس سے ان کی عوامی مقبولیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ گورنر ارلیکر نے بھی تصدیق کی کہ انہیں ٹی وی کے کی جانب سے حکومت بنانے کا خط موصول ہوا ہے اور اس سلسلے میں وجے سے ملاقات طے کی گئی تھی۔
کانگریس کی حمایت، اکثریت سے کچھ فاصلے پر
اس سے قبل انڈین نیشنل کانگریس کے رہنماؤں نے چنئی میں ٹی وی کے ہیڈکوارٹر پر وجے سے ملاقات کر کے اپنی حمایت کا اعلان کیا۔ کانگریس کے 5 اور ٹی وی کے کے 108 ارکان کو ملا کر اتحاد کی تعداد 113 بنتی ہے، جو اکثریت کے لیے درکار 118 نشستوں سے ابھی 5 کم ہے۔ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے ٹی وی کے نے ایڈاپڈی کے پلانی سوامی کی قیادت والی اے آئی اے ڈی ایم کے سے بھی رابطہ کیا ہے، جس کے پاس 47 نشستیں ہیں۔
سیاسی منظرنامے میں بڑی تبدیلی
ٹی وی کے کی غیر متوقع کامیابی نے ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے کی دہائیوں پرانی سیاسی بالادستی کو ختم کر دیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد ریاست میں ایک نئی سیاسی صف بندی بنتی نظر آ رہی ہے۔ تاہم ڈی ایم کے کے رہنما سروانن انا دورائی نے کانگریس کے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے اسے ’’قلیل مدتی اور نقصان دہ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ اس سے قومی سطح پر اپوزیشن اتحاد کی ساکھ متاثر ہوگی۔ تمل ناڈو کی سیاست میں وجے کی قیادت میں ٹی وی کے کا ابھار ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ اب نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا وہ مطلوبہ اکثریت حاصل کر کے حکومت بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

