ہماچل پردیش کے ضلع کانگڑا میں ایک افسوسناک بس حادثہ پیش آیا، جہاں ایک چلتی ہوئی پرائیویٹ بس کے ڈرائیور کو اچانک دل کا دورہ پڑنے سے گاڑی بے قابو ہو کر سڑک کنارے الٹ گئی۔ اس حادثے کے نتیجے میں متعدد مسافر زخمی ہوگئے، جن میں کچھ کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم اس حادثے نے عوامی نقل و حمل کے نظام اور مسافروں کی حفاظت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق یہ پرائیویٹ بس چمبا سے اونا کی جانب جا رہی تھی اور صبح تقریباً ساڑھے چھ بجے اپنے مقررہ وقت پر روانہ ہوئی تھی۔ جب بس کانگڑا ضلع کے علاقے نورپور کے قریب پہنچی تو تقریباً 11 بجے کے قریب ڈرائیور کو اچانک دل کا شدید دورہ پڑا۔ ڈرائیور کے قابو کھونے کے باعث بس بے توازن ہو گئی اور چند ہی لمحوں میں سڑک کے کنارے الٹ گئی۔
حادثے کے فوراً بعد بس میں سوار مسافروں میں چیخ و پکار مچ گئی۔ قریبی علاقوں کے مقامی لوگ فوری طور پر مدد کے لیے موقع پر پہنچے اور انہوں نے نہ صرف زخمیوں کو بس سے باہر نکالا بلکہ نورپور پولیس کو بھی واقعے کی اطلاع دی۔ پولیس اور مقامی افراد کی مشترکہ کوششوں سے ریسکیو آپریشن انجام دیا گیا اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
بتایا جا رہا ہے کہ بس میں تقریباً 40 مسافر سوار تھے، جن میں سے 24 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ان زخمیوں میں چار کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے اور انہیں بہتر علاج کے لیے خصوصی نگہداشت میں رکھا گیا ہے۔ حادثے کے بعد سڑک پر کئی گھنٹوں تک ٹریفک جام رہا، جس کے باعث مسافروں اور مقامی لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ابتدائی طور پر حادثے کی وجہ ڈرائیور کو آنے والا دل کا دورہ قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے ڈرائیوروں کی صحت کی باقاعدہ جانچ ضروری ہے تاکہ مسافروں کی جان و مال کو محفوظ بنایا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
