امریکہ اور ایران کے درمیان مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اب انتہائی خطرناک سطح پر پہنچ گئی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری بالواسطہ جنگ اب آبنائے ہرمز میں پرتشدد رخ اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ تازہ واقعے میں ایران کی ’اسلامی انقلابی گارڈ کور‘ (IRGC) کی گن بوٹس نے عمان کے قریب ایک بڑے کنٹینر شپ کو نشانہ بنایا ہے۔ اس حملے کے بعد عالمی تجارت کے اس اہم ترین سمندری راستے پر جنگ کے بادل مزید گہرے ہو گئے ہیں۔
فائرنگ سے سمندر میں ہلچل
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ عمان کے شمال مشرق میں تقریباً 15 بحری میل کے فاصلے پر پیش آیا۔ جہاز کے کپتان نے بتایا کہ IRGC کی گن بوٹس نے اچانک ان کے جہاز کو گھیر لیا اور بغیر کسی وارننگ کے فائرنگ شروع کر دی۔نقصان کی تفصیل: فائرنگ سے جہاز کے کنٹرول روم کو نقصان پہنچا، جس کے باعث نیویگیشن میں مشکلات پیش آئیں۔ حالانکہ عملے کا کوئی رکن زخمی نہیں ہوا اور نہ ہی آگ لگنے کا کوئی بڑا واقعہ پیش آیا۔
جیو پولیٹیکل اثرات
اس واقعے کے بعد سفارتی سطح پر بھی اثرات دیکھے جا رہے ہیں۔ امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کا پاکستان کا مجوزہ دورہ ملتوی کر دیا گیا ہے۔ یہ دورہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے لیے تھا، لیکن تہران کی جانب سے امریکی تجاویز پر ردعمل نہ آنے اور سمندری حملوں کے بعد صورتحال غیر یقینی ہو گئی ہے۔
سیزفائر خطرے میں؟
خلیج میں کشیدگی اس لیے بھی بڑھ رہی ہے کیونکہ دو ہفتے کی جنگ بندی ختم ہونے کے قریب ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے ان دعوؤں کی تردید کی ہے کہ ایرانی وفد اسلام آباد پہنچ چکا ہے۔ دوسری جانب امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملے نہ رکے تو وہ اپنی فوجی موجودگی اور کارروائیاں بڑھا سکتا ہے۔گزشتہ کچھ دنوں میں یہ تیسرا بڑا واقعہ ہے جس میں کسی جہاز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



