Bharat Express DD Free Dish

Electoral Reform Debate: کانگریس کا خواتین کے لیے ایک تہائی ریزرویشن کا مطالبہ، حکومت پر غیر جمہوری طریقے سے حد بندی مسلط کرنے کا الزام

سپریا شرینیت نے کہا کہ خواتین ریزرویشن کی بنیاد کانگریس نے ہی رکھی تھی، جب پنچایتی راج انتخابات میں 33 فیصد ریزرویشن دیا گیا۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج ملک میں لاکھوں منتخب خواتین نمائندے اسی پالیسی کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کرے گی تو اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

نئی دہلی: کانگریس کی ترجمان سپریا شرینیت نے اتوار کے روز مرکزی حکومت کو خواتین مخالف قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومت غیر جمہوری انداز میں ملک پر حد بندی (Delimitation) مسلط کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس موجودہ لوک سبھا نشستوں کے مطابق خواتین کو ایک تہائی ریزرویشن دینے کی حامی ہے، لیکن حکومت اس کے برعکس رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔

کانگریس کا خواتین ریزرویشن فوری نافذ کرنے کا مطالبہ

سپریا شرینیت نے خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے ایک تقریر میں 29 منٹ کے اندر 58 بار کانگریس کا نام لیا، جو ان کے خوف کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی حکومت تقسیم کی سیاست کرے گی، کانگریس اس کی مخالفت کرے گی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ وزیراعظم خواتین ریزرویشن کی راہ میں رکاوٹ کیوں بن رہے ہیں اور اسے نافذ کرنے سے کیوں گریز کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق لوک سبھا کی 543 نشستوں میں سے فوری طور پر 181 نشستیں خواتین کے لیے مختص کی جائیں، جس کے لیے کانگریس مکمل حمایت دینے کو تیار ہے۔

حکومت کی نیت پر سوال، شرطوں کے ساتھ بل لانے کا الزام

کانگریس رہنما نے کہا کہ حکومت دراصل خواتین کو ریزرویشن دینا ہی نہیں چاہتی کیونکہ وہ مردوں کی نشستیں کم کرنے سے ہچکچا رہی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2014 اور 2019 میں بھاری اکثریت ہونے کے باوجود حکومت نے اس سمت میں کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ 2023 میں خواتین ریزرویشن بل تو پیش کیا گیا، لیکن اس میں شرطیں شامل کر دی گئیں، جس کی کانگریس نے مخالفت کی۔ ان کے مطابق حکومت کی نیت صاف نہیں ہے اور وہ غیر جمہوری طریقے سے حد بندی نافذ کرنا چاہتی تھی، جسے کانگریس نے روک دیا۔

مودی حکومت کے اصلاحات اور پالیسیوں پر بھی نشانہ

سپریا شرینیت نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی گزشتہ 12 برسوں میں کوئی ایسی اصلاحات نہیں بتا سکتے جن کی کانگریس نے بلاوجہ مخالفت کی ہو۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی، فوڈ سکیورٹی بل اور آدھار جیسے اقدامات کانگریس کے دور میں شروع ہوئے، جن کی اس وقت بی جے پی نے مخالفت کی تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت کانگریس کی اسکیموں کو نیا نام دے کر پیش کر رہی ہے، جیسے زیرو بیلنس اکاؤنٹس کو جن دھن یوجنا کا نام دینا اور آدھار کو اپنی کامیابی بتانا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس جمہوریت کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی پالیسی کی مخالفت کرے گی اور ووٹوں کی چوری نہیں ہونے دے گی۔ سپریا شرینیت نے کہا کہ خواتین ریزرویشن کی بنیاد کانگریس نے ہی رکھی تھی، جب پنچایتی راج انتخابات میں 33 فیصد ریزرویشن دیا گیا۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج ملک میں لاکھوں منتخب خواتین نمائندے اسی پالیسی کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کرے گی تو اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔