مہاکمبھ کے دوران خبروں میں آنے والی مونالیسا بھونسلے کی شادی تنازعات میں گھِر گئی ہے۔ ایک سماجی کارکن کی شکایت پر ہونے والی جانچ میں انکشاف ہوا کہ شادی کے وقت مونالیسا کی عمر محض 16 سال تھی۔سرکاری ریکارڈ اور نکاح/شادی رجسٹریشن کے دستاویزات میں فرق ملنے کے بعد اب پولیس نے فرمان خان کے خلاف کارروائی تیز کر دی ہے اور ان پر پاکسو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔ مہاکمبھ کے دوران سوشل میڈیا پر راتوں رات سرخیوں میں آنے والی ‘وائرل گرل’ مونالیسا بھونسلے ایک بار پھر خبروں میں ہیں، لیکن اس بار وجہ کوئی تصویر یا ویڈیو نہیں بلکہ ایک سنسنی خیز انکشاف ہے۔ اس انکشاف نے مونالیسا سے شادی کرنے والے فرمان خان کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ خرگون کے مہیشور پولیس تھانے میں فرمان خان کے خلاف پاکسو ایکٹ کے تحت سنگین مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
کم عمری کا راز کیسے کھلا
مونالیسا اور فرمان کی شادی کی خبریں سامنے آنے کے بعد ہی لڑکی کی عمر سے متعلق سوال اٹھنے لگے تھے۔ گوتم بدھ نگر کے سماجی کارکن پرتھم دوبے نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا اور 17 مارچ کو قومی قبائلی کمیشن کے چیئرمین انتر سنگھ آریہ سے شکایت کی۔ اس کے بعد کمیشن کی ٹیم نے کیرالا سے لے کر مدھیہ پردیش کے مہیشور تک دستاویزات کی باریکی سے جانچ کی۔تحقیقات میں سامنے آیا کہ مہیشور کے کمیونٹی ہیلتھ سینٹر کے ریکارڈ کے مطابق مونالیسا کی تاریخ پیدائش 30 دسمبر 2009 ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 11 مارچ 2026 کو جب انہوں نے فرمان خان کے ساتھ نکاح کیا، اس وقت ان کی عمر تقریباً 16 سال تھی۔
شادی کے لیے دستاویزات میں تبدیلی؟
کمیشن کی جانچ میں یہ بھی سامنے آیا کہ شادی کو قانونی شکل دینے کے لیے کیرالا میں رجسٹریشن کے دوران تاریخ پیدائش میں مبینہ طور پر تبدیلی کی گئی۔ سرکاری ریکارڈ اور نکاح کے وقت پیش کی گئی تاریخ میں فرق پایا گیا۔ فی الحال پولیس نے فرمان خان کے خلاف کارروائی تیز کر دی ہے۔ نابالغ سے شادی اور پاکسو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہونے کے بعد یہ معاملہ تیزی سے سنگین ہوتا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




