لکھنؤ/جھانسی: راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ اور اتر پردیش کے سابق نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگی حالات کے باوجود بھارت کی مرکزی حکومت عوام کو اس کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی پر قابو پانا، گیس اور تیل کی مناسب دستیابی یقینی بنانا اور ضروری اشیاء کی قیمتوں کو مستحکم رکھنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک جنگی حالات کے باعث شدید بحران سے گزر رہے ہیں، مگر بھارت میں حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے حکومت مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ گیس کی قلت کے حوالے سے اپوزیشن جماعتیں افواہیں پھیلا رہی ہیں، جبکہ حکومت اس معاملے پر مکمل طور پر سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحران کے نام پر کالا بازاری کرنے والوں کے چہروں سے نقاب اتر چکا ہے اور حکومت ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی جنگی حالات کے باوجود عام شہریوں کو کسی بڑی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے، اس کے لیے مرکزی حکومت مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے حکومت نے ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کی ہے، جبکہ کھاد اور پیٹرو مصنوعات پر کسٹم ڈیوٹی بھی کم یا ختم کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی خود اس صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں اور متعلقہ وزارتوں کو ضروری ہدایات دے رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دنیا کے کئی ممالک جیسے پاکستان، آسٹریلیا اور یورپ کے کئی ممالک میں ایندھن کی قلت دیکھی جا رہی ہے، جبکہ بھارت میں صورتحال قابو میں ہے۔ ڈاکٹر دنیش شرما نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر بھی ان کی قیادت کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک معروف امریکی جریدے نے حال ہی میں نریندر مودی کو دنیا کا مقبول ترین لیڈر قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ جی 20 سربراہ اجلاس میں بھی وزیر اعظم مودی کی قیادت میں دنیا کے بڑے ممالک نے شرکت کی، جس سے بھارت کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

عام آدمی پارٹی سے متعلق سوال کے جواب میں ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ یہ پارٹی اب عام آدمی کی نہیں بلکہ خاص افراد کی جماعت بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس جماعت میں کارکنوں کے بجائے صنعتکاروں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ راگھو چڈھا پارلیمنٹ میں عوامی مسائل اٹھا رہے تھے، لیکن بی جے پی کا منشور ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا پریاس‘‘ ہے اور پارٹی تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلنے میں یقین رکھتی ہے۔ یو جی سی کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور مرکزی حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی۔ انہوں نے آبادی کے عدم توازن کے مسئلے پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ ملک میں آبادی کے استحکام کی شرح کم ہو رہی ہے اور آنے والے وقت میں بزرگ آبادی میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت ایک نوجوان ملک سے آہستہ آہستہ معمر آبادی والے ملک میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی دس ریاستوں میں ہندو آبادی اقلیت میں تبدیل ہو چکی ہے اور اس عدم توازن کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں ہندو اقلیت میں ہیں، وہاں انہیں بھی اقلیت کے حقوق ملنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ کسی کے خلاف نہیں بلکہ سماجی توازن برقرار رکھنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ ڈاکٹر دنیش شرما نے بتایا کہ انہوں نے حال ہی میں پارلیمنٹ میں تعلیمی اداروں میں امتیازی سلوک کا معاملہ بھی اٹھایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہندو تعلیمی اداروں کے لیے حق تعلیم کے قوانین بوجھ بن گئے ہیں، جبکہ اقلیتی اداروں کو اس سے چھوٹ حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندو ادارے گیتا اور وید کی تعلیم نہیں دے سکتے، جبکہ اقلیتی اداروں میں مذہبی تعلیم دی جا سکتی ہے، جو مساوات کے اصول کے خلاف ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس سلسلے میں مساوی قانون بنایا جائے۔ بعد ازاں سخی ہنومان مندر میں منعقدہ مذہبی تقریب میں سنتوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ جہاں سنت ہوتے ہیں وہاں خوشحالی اور سکون بھی ہوتا ہے۔ انہوں نے ہنومان جی سے متعلق روایتی واقعات بیان کرتے ہوئے کہا کہ چترکوٹ میں گوسوامی تلسی داس کی ملاقات ہنومان جی سے برہمن کے بھیس میں ہوئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ برہمن ہونا کسی ذات کا نام نہیں بلکہ اعلیٰ کردار اور دوسروں کی بھلائی کے جذبے کا نام ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں جتنے بھی حملہ آور آئے، انہوں نے سماج کے اس طبقے کو نشانہ بنایا کیونکہ وہ سماج کو جوڑنے کا کام کرتے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انگریزوں نے بھارت کے سماج کو ذاتوں میں تقسیم کرنے کی سازش کی اور طویل عرصے تک حکومت کرنے کے لیے تعلیمی نظام کو بھی تبدیل کیا۔ اپنے دورے کے دوران ڈاکٹر دنیش شرما نے ماں پیتمبرا دیوی مندر میں درشن کیے اور بعد ازاں مقامی لیڈروں اور کارکنوں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے کارکنان کے اجلاس سے بھی خطاب کیا اور تنظیم کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔ اس موقع پر متعدد سیاسی و سماجی شخصیات موجود تھیں جن میں انوراگ شرما، جواہر لال راجپوت، رام رتن کشواہا اور دیگر لیڈر شامل تھے۔ تقریب میں سنتوں، عوامی نمائندوں اور بڑی تعداد میں کارکنان نے شرکت کی۔ ڈاکٹر دنیش شرما نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ متحد ہو کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کے مفاد میں ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے اور عالمی سطح پر پیدا ہونے والی مشکلات کے باوجود ملک میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ افواہوں پر توجہ نہ دیں اور حکومت کی پالیسیوں پر اعتماد رکھیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



