Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court Invites Bids For Monkey Chasers: سپریم کورٹ میں بندر بھگانے کیلئے تربیت یافتہ عملے کی تلاش، آن لائن ٹینڈر جاری

جاری ٹینڈر نوٹس کے مطابق تقریباً سو تربیت یافتہ ملازمین کی ضرورت ظاہر کی گئی ہے، جو بندروں کو بھگانے، پکڑنے یا محفوظ طریقے سے منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ عدالت نے کہا کہ منتخب ایجنسی کو ایسے افراد فراہم کرنے ہوں گے جو اس نوعیت کے کام میں مہارت رکھتے ہوں اور انسانی و حیوانی تحفظ کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے خدمات انجام دیں۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے اپنے احاطے اور ججوں کے رہائشی بنگلوں میں بڑھتے ہوئے بندروں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے تربیت یافتہ عملے کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے تحت عدالت نے آن لائن ٹینڈر جاری کرتے ہوئے ایسی ایجنسیوں سے درخواستیں طلب کی ہیں جو بندروں کو محفوظ طریقے سے بھگانے اور پکڑنے کا تجربہ رکھتی ہوں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ عدالت کے مختلف حصوں خصوصاً ججوں کے رہائشی بنگلوں، سپریم کورٹ گیسٹ ہاؤس اور دیگر متعلقہ مقامات پر بندروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے نہ صرف عملے بلکہ ججوں اور ان کے اہل خانہ کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے اقدامات شروع کیے ہیں۔

جاری ٹینڈر نوٹس کے مطابق تقریباً سو تربیت یافتہ ملازمین کی ضرورت ظاہر کی گئی ہے، جو بندروں کو بھگانے، پکڑنے یا محفوظ طریقے سے منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ عدالت نے کہا کہ منتخب ایجنسی کو ایسے افراد فراہم کرنے ہوں گے جو اس نوعیت کے کام میں مہارت رکھتے ہوں اور انسانی و حیوانی تحفظ کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے خدمات انجام دیں۔

سپریم کورٹ نے یہ ٹینڈر گورنمنٹ ای مارکیٹ پلیس یعنی جی ای ایم پورٹل کے ذریعے جاری کیا ہے۔ اس آن لائن عمل کے تحت دلچسپی رکھنے والی ایجنسیاں اپنی بولیاں جمع کرا سکتی ہیں۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ یہ عمل شفافیت کو یقینی بنانے اور اہل ایجنسیوں کے انتخاب کے لیے اختیار کیا گیا ہے تاکہ بہترین خدمات حاصل کی جا سکیں۔ ٹینڈر دستاویز کے مطابق یہ معاہدہ ابتدائی طور پر دو سال کے لیے ہوگا۔ منتخب عملے کو سپریم کورٹ سے تقریباً دس کلومیٹر کے دائرے میں واقع ججوں کے تقریباً 35 سے چالیس رہائشی بنگلوں میں تعینات کیا جائے گا۔ عدالت نے مزید کہا کہ ضرورت کے مطابق عملے کی تعداد میں اضافہ یا کمی بھی کی جا سکتی ہے۔

نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فراہم کیے جانے والے ملازمین کو بندروں کو نقصان پہنچائے بغیر انہیں محفوظ طریقے سے دور رکھنے کی تربیت حاصل ہونی چاہیے۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف لوگوں کو بندروں سے ہونے والی پریشانی سے بچانا ہے بلکہ جانوروں کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو عملی قدم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ کچھ عرصے سے بندروں کی بڑھتی ہوئی موجودگی نے سیکیورٹی خدشات کو جنم دیا تھا۔ عدالت کی انتظامیہ کو امید ہے کہ تربیت یافتہ عملے کی تعیناتی سے اس مسئلے پر قابو پایا جا سکے گا اور عدالت کے احاطے میں معمول کی سرگرمیاں بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہیں گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read