Bharat Express DD Free Dish

Oil Reserves are Decreasing in Asia: ایشیا میں کم ہو رہے ہیں تیل کے ذخائر، جے پی مورگن کی رپورٹ میں امریکہ اور یورپ کے لیے بھی انتباہ جاری

ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے باعث آبنائے ہرمز اس وقت بند ہے، جس کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ کا تیل دنیا کے دیگر ممالک تک نہیں پہنچ پا رہا۔ صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ کئی ممالک میں تیل کے ذخائر کم ہونے کے اثرات محسوس کیے جانے لگے ہیں۔

معروف امریکی مالیاتی ادارے جے پی مورگن نے گزشتہ ہفتے جاری اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ جیسے جیسے یہ بحران مغرب کی جانب بڑھے گا، اس کا اثر سب سے پہلے ایشیا پر پڑے گا، جبکہ اس کے بعد امریکہ اور یورپ متاثر ہوں گے۔عام طور پر خلیج فارس سے تیل کی ترسیل 10 سے 20 دن میں ایشیا پہنچتی ہے، جبکہ 20 سے 35 دن میں یورپ اور افریقہ تک پہنچتی ہے اور تقریباً 35 سے 45 دن کے بعد امریکہ تک تیل پہنچتا ہے۔

جے پی مورگن کی رپورٹ میں کیا کہا گیا ہے؟

جے پی مورگن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مغرب کی طرف بڑھتی سپلائی میں رکاوٹ کے باعث سب سے پہلے ایشیا پر دباؤ بڑھے گا۔ رپورٹ کے مطابق آخری آئل ٹینکر 28 فروری کو آبنائے ہرمز سے روانہ ہوا تھا اور جنگ سے پہلے بھیجی گئی بیشتر کھیپ اب تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ رپورٹ میں خاص طور پر جنوب مشرقی ایشیا کو زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اس خطے میں تیل کی برآمدات میں ماہانہ بنیاد پر 41 فیصد کمی کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ “تیل سے متعلق اصل چیلنج قیمت سے بڑھ کر اب حقیقی قلت میں تبدیل ہو چکا ہے۔”

افریقہ بھی اس صورتحال سے متاثر ہوگا

جنوب مشرقی ایشیا کے بعد افریقہ بھی اس صورتحال سے متاثر ہوگا اور اپریل کے آغاز تک اس کے اثرات مزید واضح ہو سکتے ہیں، تاہم یہ مقامی ذخائر اور درآمدی تیل پر انحصار پر منحصر ہوگا۔ جے پی مورگن کے مطابق دباؤ کے ابتدائی آثار نظر آنے لگے ہیں۔ کینیا میں ریٹیل سطح پر ایندھن کی کمی دیکھی جا رہی ہے، جبکہ تنزانیہ کے پاس ابھی مناسب ذخیرہ موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق یورپ پر اس کے اثرات اپریل کے وسط تک محسوس ہونے کا امکان ہے، تاہم یورپ کے پاس مضبوط ذخائر اور متبادل سپلائی کے ذرائع موجود ہونے کی وجہ سے فوری بحران کا امکان کم ہے۔

امریکہ کو تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ پر اس بحران کا اثر سب سے آخر میں پڑے گا کیونکہ وہاں مقامی پیداوار کافی زیادہ ہے۔ اس لیے فوری طور پر شدید قلت کا امکان کم ہے، تاہم کیلیفورنیا میں سپلائی سے متعلق چیلنجز پیدا ہو سکتے ہیں اور مجموعی طور پر امریکہ کو تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read