نئی دہلی: مرکزی حکومت نے این سی ای آر ٹی کی آٹھویں جماعت کی کتاب میں عدلیہ سے متعلق باب کو دوبارہ تحریر کرنے کے لیے تین رکنی ماہر کمیٹی قائم کر دی ہے۔ جمعہ کے روز حکومت نے سپریم کورٹ کو اس بارے میں آگاہ کیا۔ حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی اس کمیٹی میں سابق اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال، جسٹس اندو ملہوترا اور جسٹس انیردھ بوس شامل ہیں۔ یہ کمیٹی متنازع باب کا جائزہ لے کر اسے دوبارہ مرتب کرے گی۔ یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب این سی ای آر ٹی کی آٹھویں جماعت کی سماجی علوم کی کتاب ’’ایکسپلورنگ سوسائٹی: انڈیا اینڈ بیونڈ‘‘ (حصہ دوم) میں ’’ہمارے معاشرے میں عدلیہ کا کردار‘‘ کے عنوان سے شامل باب میں ’’عدلیہ میں بدعنوانی‘‘ کا ذکر کیا گیا تھا۔ اس مواد پر مختلف حلقوں کی جانب سے اعتراضات سامنے آئے، یہاں تک کہ سپریم کورٹ نے بھی اس پر سخت نوٹس لیا۔
این سی ای آر ٹی کا ردعمل
سپریم کورٹ کے نوٹس لینے کے بعد این سی ای آر ٹی نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے متعلقہ باب واپس لے لیا۔ ادارے کے ڈائریکٹر اور دیگر ذمہ داران نے باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے غیر مشروط معافی مانگی اور کہا کہ متنازع باب والی پوری کتاب کو واپس لے لیا گیا ہے اور اب اسے کہیں بھی دستیاب نہیں کرایا جا رہا۔
سپریم کورٹ کی ہدایت
سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ہدایت دی تھی کہ دوبارہ تحریر کیا گیا باب اس وقت تک شائع نہ کیا جائے جب تک ماہرین کی کمیٹی اس کا جائزہ مکمل نہ کر لے۔ اسی بنیاد پر عدالت نے حکومت کو ماہر کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا تھا۔ حکومت کی جانب سے کمیٹی کی تشکیل کی اطلاع ملنے کے بعد سپریم کورٹ نے اس معاملے میں از خود شروع کی گئی کارروائی کو ختم کر دیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



