نئی دہلی: 13 مارچ 2026 انڈین مسلمس فار سول رائٹس (IMCR) نے جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر حالیہ دنوں میں ہونے والے قاتلانہ حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے نہ صرف ایک اہم قومی سیاسی شخصیت بلکہ ملک کی جمہوری اقدار، آئینی نظام اور سیاسی رواداری پر ایک سنگین حملہ قرار دیا ہے۔
اس سلسلے میں انڈین مسلمس فار سول رائٹس کی مجلس عاملہ کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں تنظیم کے ذمہ داران اور اراکین نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اس نوعیت کے واقعات نہ صرف ملک کے سیکورٹی نظام کی کمزوری کو بے نقاب کرتے ہیں بلکہ جمہوری فضا کو بھی شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔
اجلاس کے بعد میڈیا کو جاری کیے گئے ایک باضابطہ بیان میں انڈین مسلمس فار سول رائٹس کے چیئرمین اور سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب نے مرکزی حکومت اور جموں و کشمیر پولیس کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ ایک سینئر قومی رہنما اور ملک کی اہم سیاسی شخصیت ہیں جنہیں زیڈ سیکورٹی فراہم کی گئی ہے۔ اس کے باوجود ان پر قاتلانہ حملہ ہونا نہ صرف سیکورٹی نظام کی سنگین ناکامی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ یہ پورے انتظامی ڈھانچے پر ایک بڑا سوالیہ نشان بھی کھڑا کرتا ہے۔
محمد ادیب نے کہا کہ اگر ایک زیڈ سیکورٹی حاصل کرنے والا لیڈر بھی محفوظ نہیں ہے تو پھر عام شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے بارے میں کیا یقین کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سیکورٹی کے دعووں اور زمینی حقیقت کے درمیان واضح تضاد موجود ہے، جس کی وجہ سے عوام کے اندر عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست میں قانون و نظم کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور سیکورٹی ادارے اپنی بنیادی ذمہ داریوں کو مؤثر طریقے سے ادا کرنے میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔ اس طرح کے خطرناک واقعات نہ صرف عوام میں خوف و ہراس پیدا کرتے ہیں بلکہ جمہوری ماحول کو بھی مجروح کرتے ہیں۔
میٹنگ میں شریک پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس جسٹس اقبال احمد انصاری نے بھی اس واقعہ پر شدید حیرت اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک اور حیران کن بات ہے کہ ایک اہم قومی سیاسی لیڈر پر عوامی تقریب کے دوران قاتلانہ حملہ ہو جاتا ہے اور اس کے باوجود سرکار اور پولیس خاموش تماشائی بنی نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جانچ کے نام پر محض لیپا پوتی کی جا رہی ہے، جو نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ اس سے پولیس اور انتظامیہ پر عوام کا اعتماد بھی کمزور ہوتا ہے۔
آئی۔ ایم۔ سی۔ آر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس واقعہ کی اعلیٰ سطحی، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور اس حملے کے ذمہ دار عناصر کو فوری طور پر قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ تنظیم نے واضح کیا کہ اس معاملے میں کسی بھی قسم کی لاپروائی یا پردہ پوشی کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور عوام کو اس واقعہ کی مکمل حقیقت جاننے کا پورا حق حاصل ہے۔
انڈین مسلمس فار سول رائٹس نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ تنظیم کے چیف پیٹرن بھی ہیں، اس لیے یہ واقعہ تنظیم کے لیے خصوصی طور پر باعث تشویش ہے۔ تنظیم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ سمیت تمام اہم سیاسی اور سماجی شخصیات کی سیکورٹی کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور سیکورٹی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے خطرناک واقعات کو روکا جا سکے۔
تنظیم نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ ملک میں جمہوری اقدار، قانون کی حکمرانی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی آواز بلند کرتی رہے گی اور کسی بھی ناانصافی، نااہلی یا سیکورٹی کی ناکامی پر خاموش نہیں رہے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

