Bharat Express DD Free Dish

Afghan Foreign Minister speaks with Qatar: افغان وزیر خارجہ کی قطر سے ہوئی بات، ’’ہم نے اپنی خودمختاری پر حملے کا دیا جواب…‘‘، افغان وزارت خارجہ کا بیان

افغان وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق، متقی نے کہا کہ ملک کی سلامتی اور دفاعی افواج کی حالیہ کارروائیاں افغانستان کی خودمختاری، فضائی حدود اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے کی گئی تھیں، اور طے شدہ اہداف کامیابی سے حاصل کیے گئے۔

افغانستان کے وزیر خارجہ عامر خان متقی۔

کابل:  افغانستان کے وزیر خارجہ عامر خان متقی نے قطر کے وزارت خارجہ میں ریاستی وزیر محمد بن عبدالاعزیز الخلیفہ سے فون پر بات کی ہے۔ افغان وزارت خارجہ کے مطابق وزیر نے فون پر واضح کیا کہ وہ مذاکرات کے حامی ہیں، لیکن اپنی خودمختاری پر ہوئے حملے کا جواب بھی دینا جانتے ہیں۔

طلوع نیوز کے مطابق، اسلامی امارت افغانستان کے وزیر خارجہ عامر خان متقی نے اس گفتگو میں علاقائی مسائل، خصوصاً افغانستان اور پاکستان کے فوجی حکومتی اداروں کے درمیان حالیہ جھڑپوں پر تبادلہ خیال کیا۔

وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق، متقی نے کہا کہ ملک کی سلامتی اور دفاعی افواج کی حالیہ کارروائیاں افغانستان کی خودمختاری، فضائی حدود اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے کی گئی تھیں، اور طے شدہ اہداف کامیابی سے حاصل کیے گئے۔

افغانستان نے شروع سے ہی نہیں کی تشدد کی حمایت

انہوں نے زور دیا کہ اسلامی امارت افغانستان نے شروع سے ہی تشدد کی حمایت نہیں کی اور ہمیشہ آپسی سمجھ اور احترام کے ذریعے مسائل حل کرنے کو ترجیح دی۔ حالانکہ، انہوں نے کہا کہ یہ عمل تبھی مؤثر ہوگا جب مخالف فریق سچائی اور عملی ارادے کے ساتھ معاملہ حل کرنے کی کوشش کرے۔

قطر نے مسائل کے بنیادی حل کی ضرورت پر دیا زور

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ قطر کے حکام نے دونوں فریقوں کے درمیان مسائل کے بنیادی حل کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ قطر متعلقہ ممالک کے ساتھ رابطہ اور تعاون بڑھا کر صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ بات چیت کے دوران دونوں فریقوں نے مسلسل رابطے اور مشاورت برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read