ظہور حسین بٹ
ممبئی کے بھوَنس کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر سنیل کے گوندھلی کے لیے ابتداء میں مصنوعی ذہانت(اے آئی) اس خدشے کا سبب بنی کہ کہیں یہ اساتذہ کے کردار کو کمزور نہ کردے۔ مگر ممبئی کے امریکی قونصل خانہ کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ورکشاپ سیریز ’ٹیچنگ وِتھ ٹیکنالوجی : دی اے آئی ریولیوشن‘ کے ذریعہ ان کا یہ نقطہ نظر بدل گیا۔انہوں نے محسوس کیا کہ اگر وہ روزانہ کے چھوٹے موٹے کام اے آئی سے کروالیں، تو وہ طلبہ کو مشکل مہارتیں سکھانے کے لیے زیادہ وقت اور توجہ دے پائیں گے۔ ورکشاپ میں عام طور پر مصنوعی ذہانت کو ذہنی بوجھ کم کرنے والے ایک آلہ کے طور پر پیش کیا جارہا ہے، جس سے توجہ محض مواد کی ترسیل کی بجائے تنقیدی سوالات اور دریافت کی جانب منتقل ہو رہی ہے۔ یہ طریقۂ کار اساتذہ کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ طلبہ کو تنقیدی سوچ اور موافقت جیسی مہارتوں سے آراستہ کریں، جو ایک بڑھتی ہوئی پیچیدگی کی حامل عالمی معیشت میں ناگزیر ہیں۔ ممبئی کے امیریکن سینٹر میں منعقد ہونے والی پانچ حصوں پر مشتمل یہ سیریز 250 ہندوستانی اساتذہ، منتظمین، نصاب تیار کرنے والوں اور پالیسی سازوں کو مصنوعی ذہانت پر مبنی تدریسی طریقوں کی تربیت فراہم کرے گی جس میں عملی مشق، ضابطۂ اخلاق اور انفرادی نوعیت کی تعلیم پر خاص زور دیا گیا ہے۔ امریکہ کے تیار کردہ ٹولس، تحقیق اور پالیسی طریقۂ کار کو نمایاں کرتے ہوئے یہ پروگرام اے آئی سے تقویت یافتہ تعلیم میں امریکی قیادت کو اجاگر کرتا ہے اور امریکی ٹیکنالوجیوں اور بہترین عملی طریقوں کو طویل مدتی بنیادوں پر اپنانے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
مصنوعی ذہانت بطور فکری ساتھی
پہلی ورکشاپ میں 50 اساتذہ اور پالیسی سازوں نے شرکت کی، جس کی قیادت فلبرائٹ ٹیچنگ ایکسی لینس اینڈ اچیومنٹ فیلو مُراری جھا نے کی۔ وہ اس وقت نئی دہلی میں اسٹیٹ کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (ایس سی ای آر ٹی )میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس ورکشاپ میں ٹیکنالوجی سے تقویت یافتہ تدریسی طریقوں پر توجہ دی گئی، جن کے ذریعے اساتذہ مختلف تعلیمی سطحوں، زبانوں اور دلچسپیوں کے حامل طلبہ کے لیے موزوں اور متنوع سرگرمیاں تیار کر سکتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت سے متعلق ابتدائی جھجھک دور کرنے کے لیے جھا نے شرکاء کو اے آئی کو ایک تخلیقی معاون کے طور پر دیکھنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے یہ دکھایا کہ کس طرح ان ٹولس کی مدد سے تمثیلی نمونوںفکری محرکات یا گفتگو کے آغاز کے نکات تیار کیے جا سکتے ہیں، جبکہ تدریسی مقصد مکمل طور پر انسان کے اختیار میں ہی رہتا ہے۔جھا نے اے آئی کو ایک معاون مددگار کے طور پر پیش کیا اور بتایا کہ اساتذہ کس طرح سبق کی منصوبہ بندی جیسے معمول کے کاموں کے لیے اے آئی پر مبنی ٹولس استعمال کر کے کلاس روم میں باہمی تعامل اور غور و فکر کے لیے زیادہ وقت نکال سکتے ہیں۔ گوندھلی نے ’کام کی تقسیم‘ کی اس حکمت عملی کو خاص طور پر مؤثر پایا۔ وہ کہتے ہیں ’’سب سے نمایاں تبدیلی یہ ہے کہ استاد کا کردار محض معلومات فراہم کرنے والے سے اتالیق کا ہو رہا ہے۔‘‘جھا نے ورکشاپ کے دوران مشترکہ تجربہ کاری کے ذریعے شرکاء کو ٹولس آزمانے اور انہیں اپنے تناظر کے مطابق ڈھالنے میں بھی مدد دی۔
ڈاکٹر وی این بیڈیکر انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ اسٹڈیز میں اسسٹنٹ پروفیسر پراتھ میش تواڑے کے لیے کیوری پوڈ اور ڈِ فٹ اے آئی جیسے پلیٹ فارموں نے یہ واضح کیا کہ اے آئی کس طرح انفرادی تعلیمی ضروریات کے مطابق مواد تیار کرسکتی ہے۔ جھا بتاتے ہیں ’’ یہ ٹولس اساتذہ کے کردار کو کم نہیں کرتے بلکہ انہیں ان کے سب سے اہم کام یعنی طلبہ کو فہم و ادراک میں مدد دینے کے لیے زیادہ وقت اور موقع فراہم کرتے ہیں۔ ‘‘ شرکاء نے یہ مشاہدہ کیا کہ امریکہ کے تیار کردہ اے آئی پلیٹ فارمس، جیسے کہ میجک اسکول اے آئی، کیوری پوڈ، ڈِفٹ، کینوا اے آئی، نوٹ بُک ایل ایم اور چیٹ جی پی ٹی کے استعمال کے تجربے نے انہیں یہ سمجھنے میں مدد دی کہ مصنوعی ذہانت کس طرح تعلیمی مقاصد سے ہم آہنگ رہتے ہوئے اپنی کارکردگی بہتر بنا سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ٹولس تحقیق پر مبنی ڈیزائن، رسائی کے معیارات اور ان اخلاقی پہلوؤں کی عکاسی کرتے ہیں جو امریکی تعلیمی ٹیکنالوجی میں شامل ہیں۔
ضابطۂ اخلاق اور امریکی ضابطے
اے آئی سے متعلق خدشات، مثلاً تعلیمی دیانت، تخلیقی صلاحیت، روزگار پر اثرات اور طلبہ کے ڈیٹا کی رازداری جیسے معاملات کو براہ راست زیر بحث لایا گیا۔ جھا کہتے ہیں ’’میں اکثر شرکاء سے پوچھتا ہوں کہ کیا آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جو اے آئی استعمال کر کے مصنف بن گیا ہو؟ جواب ہمیشہ نفی میں ہوتا ہے۔ اے آئی ایک مصنف کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے لیکن یہ کسی غیر مصنف کو مصنف نہیں بناتی۔ جس طرح کھیلوں کے جوتے ایک رنر کی کارکردگی تو بہتر بناتے ہیں مگر کسی (عام شخص) کو رنر نہیں بنا دیتے، بالکل اسی طرح اے آئی کلاس روم میں اپنا کردار ادا کرتی ہے۔‘‘ اخلاقیات اور اعداد وشمار کی رازداری اس پروگرام کے بنیادی ستون ہیں۔ جھا امریکی پالیسی فریم ورکس اور ادارہ جاتی طریقہ کار کا حوالہ دیتے ہوئے شفافیت، باخبر رضامندی، جوابدہی اور ذمہ دارانہ اختراع پر زور دیتے ہیں۔ جھا وضاحت کرتے ہیں کہ ’’یہ فریم ورک محض ایسے قواعد نہیں ہیں جن کی نقل کی جائے، بلکہ یہ وہ ٹولس ہیں جو اساتذہ کو کسی بھی ٹیکنالوجی کو اپنانے سے پہلے درست سوالات پوچھنے میں مدد دیتے ہیں۔‘‘
اے آئی تعلیم کے ذریعے باہمی تعاون کا فروغ
کلاس روم کی مشق سے آگے بڑھ کر، یہ ورکشاپ تعاون اور تبادلے پر بھی زور دیتے ہیں۔ جھا کہتے ہیں ’’اس طرح کے پروگرام مہارت کی محض یک طرفہ منتقلی کے بجائے باہمی مکالمے کی راہ ہموار کرتے ہیں‘‘ جس سے ہندوستانی اساتذہ کو عالمی پیش رفت سے جڑنے کا موقع ملتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بات چیت مقامی حقائق پر مبنی رہتی ہے۔ شرکاء بھی اس خیال سے اتفاق کرتے ہیں۔ سری سری روی شنکر ودیا مندر کی پریتی پائی کہتی ہیں ’’اس طرح کی ورکشاپ عالمی بہترین عملی طریقوں اور اختراعی تدریسی انداز کو شیئر کر کے امریکہ اور ہندوستان کے تعاون کو مضبوط بناتی ہیں۔‘‘ سینٹ جوزف ہائی اسکول میں سیکنڈری سپروائزر بِلّورو ناگ پربھا جیسے اساتذہ کے لیے ان ورکشاپوں نے تدریس کے نئے امکانات روشن کر دیے ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’’میں اب نیا مواد تیار کروں گی، انفرادی نوعیت کے تعلیمی ٹولس بناؤں گی اور اپنی سوچ کو روایتی دائروں سے باہرلے جاؤں گی۔‘‘ اس طرح کے پروگراموں کے ذریعے اساتذہ اس عمل پر نئے سرے سے غور کر رہے ہیں کہ طلبہ کس طرح سیکھتے ہیں، وہ کلاس رومس میں امریکہ کے تیار کردہ اے آئی ٹولس استعمال کر رہے ہیں اور طلبہ کو تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کے لیے ضروری مہارتوں سے لیس کر رہے ہیں۔
بشکریہ اسپین میگزین، امریکی سفارت خانہ، نئی دہلی
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔





