کانپور کے لمبورگینی حادثے میں ایک بڑا اپڈیٹ سامنے آیا ہے۔ تازہ معلومات کے مطابق پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے شِوَم مشرا کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کمشنر نے خود تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم کو قانونی کارروائی کے تحت حراست میں لے کر کورٹ میں پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی موجود شواہد اور تفتیش کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ شِوَم مشرا تقریباً 90 گھنٹے سے فرار تھا، جسے اب کانپور سے ہی حراست میں لیا گیا ہے۔
کانپور کے لمبورگینی حادثے میں تازہ صورتحال
کانپور کے وی آئی پی روڈ، گوالٹو لی علاقے میں 8 فروری 2026 کو ایک تقریباً 10 کروڑ روپے قیمت کی لمبورگینی ریوالوٹو نے ہنگامہ مچا دیا تھا۔ پولیس کے مطابق، اس تیز رفتار گاڑی نے چلتی ہوئی گاڑیوں اور راہگیروں کو ٹکر مار کر کم از کم چھ افراد کو زخمی کر دیا۔ یہ گاڑی تمباکو کاروباری کے کے مشرا کے بیٹے شِوَم مشرا کی ہے۔ حادثے کے بعد ابتدا میں پولیس نے گاڑی کو تھانے لے جا کر ڈھانپ دیا اور نامعلوم شخص کے خلاف رپورٹ درج کی، جس سے معاملے پر کئی سوالات اٹھے۔واقعے کے بعد موجود لوگوں نے گاڑی کو گھیر لیا، تب گاڑی کے پیچھے دوسری کاروں میں موجود باؤنسروں نے لوگوں کو دھکا دے کر پیچھے ہٹایا اور کار کے اندر سے شِوَم مشرا کو باہر نکالا۔ بعد میں پولیس آئی، گاڑی کو قبضے میں لے کر تھانے منتقل کیا اور عوام نے دباؤ ڈالا کہ شِوَم مشرا کے خلاف کیس درج کیا جائے۔ ابتدا میں باؤنسروں اور لوگوں کے درمیان دھکا مُکی ہوئی، لیکن بعد میں پولیس نے شِوَم مشرا کو کیس میں شامل کر لیا۔12 فروری کو تقریباً 90 گھنٹے فرار رہنے کے بعد شِوَم مشرا کو گرفتار کر کے کورٹ میں پیش کیا گیا۔شِوَم مشرا کے وکیل نے ضمانت کی درخواست دائر کرتے ہوئے کہا کہ شِوَم گاڑی نہیں چلا رہا تھا، حادثے کے وقت وہ پارس اسپتال میں داخل تھا اور ڈرائیور موہن ہی گاڑی چلا رہا تھا۔ وکیل نے کہا کہ کورٹ میں CCTV فوٹیج کی مدد سے یہ ثابت کیا جائے گا کہ شِوَم حادثے کے وقت گاڑی نہیں چلا رہا تھا۔گرفتاری کے بعد پولیس نے بتایا کہ شِوَم پورے وقت کانپور میں ہی چھپا ہوا تھا اور قانونی کارروائی کے تحت اسے حراست میں لے کر عدالت میں پیش کیا گیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



