امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کی سمت ایک ’وسیع بحری بیڑا‘ تعینات کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اشارہ دیا کہ ایران مذاکرات کا خواہاں ہے، لیکن امریکہ کی شرائط واضح اور سخت ہوں گی۔ فاکس بزنس کے لیری کڈلو کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے خطے میں بڑھتی امریکی فوجی سرگرمی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، “جیسا کہ آپ جانتے ہیں، اس وقت ایک بہت بڑا بحری بیڑا ایران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔”
ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں ایران سمجھوتہ کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا، “مجھے لگتا ہے وہ ڈیل کرنا چاہتے ہیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو یہ ان کی حماقت ہوگی۔” حالانکہ، ٹرمپ نے واضح کیا کہ کسی بھی معاہدے میں امریکہ کے بنیادی خدشات کو شامل کرنا ضروری ہوگا۔
امریکی صدر نے کہا، “ڈیل اچھی ہونی چاہیے۔ کوئی جوہری ہتھیار نہیں، کوئی میزائل نہیں، اور وہ تمام مسائل جنہیں آپ ختم کرنا چاہتے ہیں۔” اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ موجودہ ایرانی حکومت پر اعتماد کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔
باراک اوباما اور جو بائیڈن کی ایران پالیسی پرکی تنقید
ٹرمپ نے سابق صدور باراک اوباما اور جو بائیڈن کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا، “اوباما اور بائیڈن نے ایران کے معاملے میں ایک عفریت (Monster) کھڑا کر دیا۔ وہ جوہری معاہدہ ان سب سے بے وقوفانہ معاہدوں میں سے ایک تھا جو میں نے کبھی دیکھا ہے۔”
ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی کارروائی کا حوالہ
انہوں نے ماضی میں ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی کارروائی کا بھی حوالہ دیا اور کہا، “پچھلی بار ہم نے ان کی جوہری صلاحیت ختم کی تھی، اس بار مزید کارروائی کرنی پڑے گی یا نہیں، یہ دیکھنا ہوگا۔”
فوجی تعیناتی کو وسیع حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا
ٹرمپ نے فوجی تعیناتی اور سفارت کاری کو ایک وسیع حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا، جس میں معاشی دباؤ اور قومی سلامتی دونوں شامل ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا، “میں نے آٹھ جنگیں حل کیں، جن میں سے کم از کم چھ ٹیرف کے ذریعے حل ہوئیں۔”
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں اس کی سرگرمیوں کو لے کر کشیدگی برقرار ہے۔ مغربی ایشیا میں ایران کا کردار توانائی کی منڈیوں، بحری راستوں اور جغرافیائی سیاسی توازن کو براہِ راست متاثر کرتا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


