نئی دہلی: مہاراشٹر کے پونے میں بی جے پی کے ترجمان شہزاد پوناوالا کی والدہ کو ایک نامعلوم کار ڈرائیور نے ٹکر مار دی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئیں۔ حادثے کے بعد ملزم موقع سے فرار ہو گیا۔ شہزاد پوناوالا نے اس واقعے کی جانکاری سوشل میڈیا کے ذریعے دی۔ انہوں نے فیس بک پر لکھا، ’’ایک شخص نے جان بوجھ کر میری والدہ پر اپنی کار چڑھا دی اور انہیں شدید زخمی حالت میں چھوڑ کر فرار ہو گیا۔ ان کی سرجری ہونے والی ہے۔ براہِ کرم میری والدہ کے لیے دعا کریں۔”
انہوں نے کہا کہ ان کی والدہ نہایت رحم دل اور نیک انسان ہیں۔ اس عمر میں ان کے ساتھ پیش آنے والا یہ واقعہ ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔ انہوں نے لوگوں سے اپنی والدہ کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کرنے کی اپیل کی۔
فیس بک پوسٹ کے ساتھ شہزاد پوناوالا نے اسپتال سے ایک تصویر بھی شیئر کی، جس میں ان کی والدہ بستر پر لیٹی ہوئی نظر آ رہی ہیں اور ان کے آس پاس میڈیکل مانیٹرنگ کا سامان موجود ہے۔ تصویر میں ان کا چہرہ ڈھکا ہوا تھا۔
سٹی پولیس سے ملزم کو جلد گرفتار کرنے کی اپیل
شہزاد پوناوالا نے پونے سٹی پولیس سے اپیل کی ہے کہ ملزم کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے اور یہ یقینی بنایا جائے کہ وہ قانون کی گرفت سے بچ نہ سکے۔ انہوں نے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ کے دفتر کو بھی اس معاملے سے آگاہ کر دیا ہے۔ پونے پولیس نے تاحال اس واقعے پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا ہے۔ حالانکہ، توقع کی جا رہی ہے کہ پولیس جلد ہی ملزم کو گرفتار کر کے اس کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔
بی جے پی کے قومی ترجمان ہیں شہزاد پوناوالا
واضح رہے کہ شہزاد پوناوالا بی جے پی کے قومی ترجمان ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے وکیل، وہ پہلے کانگریس پارٹی سے وابستہ تھے، لیکن 2017 میں راہل گاندھی کے پارٹی صدر بننے پر سوال اٹھانے کے بعد انہوں نے کانگریس چھوڑ دی تھی۔ اس کے بعد وہ کانگریس کے سخت ناقد بن گئے اور 2021 میں باضابطہ طور پر بی جے پی میں شامل ہو گئے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

