وزیر اعظم نریندر مودی۔
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کے روز انڈیا انرجی ویک (آئی ای ڈبلیو) 2026 کانکلیو کے چوتھے ایڈیشن کا ورچوئل افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے بھارت اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کو ’مدر آف آل ڈیلز‘ قرار دیتے ہوئے دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کے درمیان تال میل کی ایک شاندار مثال بتایا۔
افتتاح کے بعد مندوبین سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ آپ سب توانائی اور پائیداری پر گفتگو کے لیے بھارت آئے ہیں، میں سب کا خیرمقدم کرتا ہوں۔ انڈیا انرجی ویک بہت کم وقت میں مکالمے اور عملی اقدامات کے لیے ایک عالمی پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج بھارت توانائی کے شعبے کے لیے بے پناہ مواقع کی سرزمین بن گیا ہے۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ بھارت دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھتی بڑی معیشت ہے، جس کے نتیجے میں توانائی مصنوعات کی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت عالمی طلب کو پورا کرنے کے لیے بہترین مواقع فراہم کرتا ہے۔ آج ہم پیٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے دنیا کے سرفہرست پانچ ممالک میں شامل ہیں اور ہماری برآمدات 150 سے زائد ممالک تک پہنچتی ہیں۔ بھارت کی صلاحیت شراکت داروں کے لیے انتہائی مفید ہے، اسی لیے انرجی ویک جیسا پلیٹ فارم ہماری شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے نہایت موزوں ہے۔
وزیر اعظم مودی نے ایک بڑی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اور یورپی یونین کے درمیان ایک نہایت اہم معاہدہ تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ بھارت-ای یو فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا اسے ’’مدر آف آل ڈیلز‘‘ کہہ رہی ہے۔ اس معاہدے سے بھارت کے 140 کروڑ عوام اور یورپی ممالک کے کروڑوں شہریوں کے لیے زبردست مواقع پیدا ہوں گے۔
بھارت اور یورپی یونین نے ایک تاریخی آزاد تجارتی معاہدے پر مذاکرات مکمل کر لیے ہیں، جسے تجارت میں اضافے اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔ اس معاہدے کا باضابطہ اعلان بعد میں کیا جانا ہے۔
وزیر اعظم نے اس ایف ٹی اے کو دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کے درمیان تال میل کی بہترین مثال قرار دیا، جو ان کے مطابق عالمی مجموعی گھریلو پیداوار کا تقریباً 25 فیصد اور عالمی تجارت کا تقریباً ایک تہائی حصہ رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ نہ صرف تجارت کو مضبوط بناتا ہے بلکہ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے تئیں ہماری مشترکہ وابستگی کو بھی تقویت دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یورپی یونین کے ساتھ یہ معاہدہ برطانیہ اور ای ایف ٹی اے کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کی تکمیل بھی کرے گا، جس سے تجارت اور عالمی سپلائی چین مزید مضبوط ہوں گی۔
انہوں نے اس کامیابی پر بھارت کے نوجوانوں اور تمام شہریوں کو مبارکباد دی اور ٹیکسٹائل، جواہرات و زیورات، چمڑے اور فٹ ویئر سمیت تمام شعبوں سے وابستہ افراد کو بھی سراہا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ تجارتی معاہدہ نہ صرف بھارت میں مینوفیکچرنگ کو فروغ دے گا بلکہ خدمات سے وابستہ شعبوں کی توسیع میں بھی مددگار ہوگا اور عالمی سطح پر بھارت پر اعتماد کو مزید مضبوط کرے گا۔
توانائی کے شعبے پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت میں توانائی کی ویلیو چین کے مختلف شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایکسپلوریشن سیکٹر کو کافی حد تک کھول دیا گیا ہے اور بھارت اس دہائی کے اختتام تک تیل اور گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری کو 100 ارب ڈالر تک لے جانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایکسپلوریشن ایریا کو دس لاکھ مربع کلومیٹر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ 17 لاکھ مربع کلومیٹر سے زائد کے بلاکس پہلے ہی الاٹ کیے جا چکے ہیں۔ انڈمان و نکوبار بیسن کو اگلے ہائیڈروکاربن ہب کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انڈیا انرجی ویک کے گزشتہ ایڈیشنز سے ملنے والی تجاویز کی بنیاد پر قوانین اور ضوابط میں اصلاحات کی گئی ہیں، جس سے ایکسپلوریشن سیکٹر میں سرمایہ کاری مزید منافع بخش ہو گئی ہے۔ وزیر اعظم کے مطابق بھارت کی ایک بڑی طاقت اس کی وسیع ریفائننگ صلاحیت ہے۔ بھارت اس وقت ریفائننگ صلاحیت کے لحاظ سے دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے اور جلد ہی پہلے نمبر پر پہنچنے کا ہدف رکھتا ہے۔ موجودہ صلاحیت تقریباً 260 ملین ٹن ہے، جسے 300 ملین ٹن سے زائد کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
ٹرانسپورٹ سیکٹر پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایل این جی کی شپمنٹ کے لیے خصوصی جہازوں کی ضرورت ہوتی ہے، جنہیں بھارت میں ہی تیار کرنے پر کام ہو رہا ہے۔ حال ہی میں جہاز سازی کے لیے 70 ہزار کروڑ روپے کا پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ بندرگاہوں پر ایل این جی ٹرمینلز، بڑی پائپ لائنز اور سٹی گیس ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک میں بھی سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کی بڑی آبادی اور تیزی سے بڑھتی معیشت کے باعث پیٹروکیمیکل مصنوعات کی مانگ میں بھی مسلسل اضافہ ہوگا، جس کے لیے وسیع توانائی انفراسٹرکچر کی ضرورت پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں ڈاؤن اسٹریم سرگرمیوں میں بھی سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع ہیں۔
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ بھارت اب ’’ریفارمز ایکسپریس‘‘ پر سوار ہے اور ہر شعبے میں تیز رفتاری سے اصلاحات نافذ کی جا رہی ہیں۔ ملک توانائی کی سلامتی سے آگے بڑھ کر توانائی میں خود کفالت کے مشن پر گامزن ہے اور توانائی کا شعبہ بھارت کی امنگوں کا مرکز ہے، جہاں 500 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے عالمی سرمایہ کاروں کو دعوت دیتے ہوئے کہا: ’’میک اِن انڈیا، اِنویٹ اِن انڈیا، اسکیل ود انڈیا، اِنویسٹ اِن انڈیا۔‘‘
افتتاحی تقریب میں مرکزی وزیر پیٹرولیم و قدرتی گیس ہردیپ سنگھ پوری، متحدہ عرب امارات کے وزیر صنعت و جدید ٹیکنالوجی سلطان احمد الجابر، کینیڈا کے وزیر توانائی و قدرتی وسائل ٹِم ہوجسن سمیت افریقہ، مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور گلوبل ساؤتھ کے اعلیٰ سطحی وزرا بھی موجود تھے۔ آئی ای ڈبلیو کا مقصد توانائی کی سلامتی کو مضبوط بنانا، سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور ڈی کاربنائزیشن کے لیے مؤثر اور قابلِ توسیع طریقوں کو فروغ دینا ہے۔
تین روزہ اس ایونٹ میں امریکہ، یورپ، مشرق وسطیٰ، افریقہ اور ایشیا پیسیفک خطے کے وفود شرکت کریں گے، جس سے عالمی توانائی سفارت کاری میں آئی ای ڈبلیو کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا اندازہ ہوتا ہے۔ توقع ہے کہ 120 سے زائد ممالک سے 75 ہزار سے زیادہ توانائی ماہرین اس پروگرام میں شریک ہوں گے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


