حیدرآباد (تلنگانہ): آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے صدر اسدالدین اویسی نے جمعرات کے روز وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر مداخلت کرتے ہوئے میانمار-تھائی لینڈ سرحد پر پھنسے تمام بھارتی شہریوں کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنائیں۔ ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ انہیں ایک نہایت تکلیف دہ پیغام موصول ہوا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ کم از کم 16 بھارتی شہریوں کوجن میں حیدرآباد کے تین افراد بھی شامل ہیں، تھائی لینڈ میں نوکری کا جھانسہ دے کر میانمار-تھائی لینڈ سرحد پر لے جایا گیا اور وہاں انہیں یرغمال بنا لیا گیا۔ اویسی نے اپنی پوسٹ میں کہا: ’’مجھے ایک انتہائی پریشان کن پیغام ملا ہے: کم از کم 16 بھارتی شہریوں، جن میں حیدرآباد کے تین افراد شامل ہیں، کو تھائی لینڈ میں ملازمت کا وعدہ کر کے میانمار-تھائی لینڈ سرحد پر لے جایا گیا اور انہیں غلام بنا لیا گیا۔ ان سے روزانہ 18 سے 20 گھنٹے کام کروایا جا رہا ہے، جسمانی تشدد کیا جاتا ہے اور ان کے پاسپورٹ، موبائل فون اور طبی سہولیات تک چھین لی گئی ہیں۔‘‘
I have received a distressing message: at least 16 Indian nationals, including three from Hyderabad, were promised jobs in Thailand but taken to the Myanmar-Thailand border and enslaved. They are forced to work 18-20 hours daily, physically punished, and deprived of passports,…
— Asaduddin Owaisi (@asadowaisi) January 22, 2026
میر سجاد علی کی اطلاع کا حوالہ
اویسی نے مزید بتایا کہ انہیں یہ معلومات میر سجاد علی سے ملی ہیں، جو حیدرآباد کے علاقے عثمان نگر کے رہائشی ہیں اور اس وقت میانمار-تھائی لینڈ سرحد پر قید ہیں۔ انہوں نے لکھا: ’’DrSJaishankar@ براہ کرم فوری مداخلت کر کے تمام بھارتی شہریوں کی بازیابی کو یقینی بنائیں۔ یہ اطلاع میر سجاد علی کی جانب سے دی گئی ہے، جو عثمان نگر، حیدرآباد کے رہائشی ہیں اور اس وقت میانمار-تھائی لینڈ سرحد پر قید ہیں۔ ان کے ساتھ موجود دو دیگر افراد مولا علی اور بنجارہ ہلز سے تعلق رکھتے ہیں۔‘‘
بی جے پی رہنما این وی سبھاش کا بیان
اسی معاملے پر اے این آئی سے بات کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر این وی سبھاش نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ ایک بڑا کاروبار بن چکا ہے، جہاں لوگوں کو نوکری اور پیسے کا لالچ دے کر بیرون ملک بھیجا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’انسانی اسمگلنگ ایک بڑا کاروبار بن گئی ہے، جہاں لوگوں کو روزگار اور پیسے کے وعدوں سے بہلا کر بیرون ملک بھیجا جاتا ہے۔ ہمیں اطلاع ملی ہے کہ 16 افراد پھنسے ہوئے ہیں، جن میں سے 4 سے 5 کا تعلق حیدرآباد سے ہے، اور وہ اس وقت تھائی لینڈ اور دیگر ممالک میں پھنسے ہوئے ہیں۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

