Bharat Express DD Free Dish

Waris Pathan Targets Congress: ’’کانگریس مسلمانوں کو صرف ووٹ بینک سمجھتی ہے…قیادت دینے میں ہمیشہ پیچھے رہی…‘‘، وارث پٹھان کا بڑا الزام

وارث پٹھان نے الزام لگایا کہ کانگریس کی نیت اور سوچ صاف ظاہر ہو رہی ہے، کیونکہ پارٹی کو مسلمانوں کی سیاسی قیادت یا ان کے سیاسی بااختیار ہونے سے کوئی حقیقی سروکار نہیں ہے

اے آئی ایم آئی ایم لیڈر وارث پٹھان۔

ممبئی: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسدالدین اویسی کے اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایک دن بھارت میں حجاب پہننے والی خاتون بھی وزیر اعظم بن سکتی ہے۔ اس بیان پر اٹھنے والے سوالات کے درمیان اے آئی ایم آئی ایم کے لیڈر وارث پٹھان نے پارٹی کا موقف پیش کرتے ہوئے کانگریس اور بی جے پی کو نشانہ بنایا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی مسلمانوں کو محض ووٹ بینک سمجھتی ہے اور انہیں قیادت کے مواقع دینے میں ہمیشہ پیچھے ہٹتی رہی ہے۔ وارث پٹھان نے خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے لیڈر اکثر کہتے رہتے ہیں کہ فلاں شخص میئر بن سکتا ہے یا فلاں شخص وزیر اعظم بن سکتا ہے، لیکن اویسی نے جو بات کہی ہے، اس کا اصل پیغام بھارت کے آئین سے جڑا ہوا ہے۔

وارث پٹھان نے پاکستان کے آئین کا دیا حوالہ

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین میں صاف طور پر لکھا ہے کہ وہاں صرف ایک مخصوص مذہب کا فرد ہی وزیر اعظم بن سکتا ہے، جبکہ بھارت کا آئین، جسے ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے تیار کیا، مکمل طور پر برابری کے اصول پر مبنی ہے۔ بھارتی آئین میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا ہے کہ کسی خاص مذہب، ذات یا طبقے کا فرد ہی وزیر اعظم، میئر یا کسی بڑے عہدے پر فائز ہو سکتا ہے۔ بھارت میں کسی بھی مذہب اور کسی بھی ذات کا فرد، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، ملک کے اعلیٰ ترین منصب تک پہنچ سکتا ہے۔ اسی جذبے کے تحت اے آئی ایم آئی ایم کی یہ امید اور خواہش ہے کہ مستقبل میں حجاب پہننے والی خاتون بھی وزیر اعظم یا میئر بن سکتی ہے۔

کانگریس کی نیت اور سوچ پر وارث کا سوال

وارث پٹھان نے سوال اٹھایا کہ آخر کانگریس پارٹی کو اس بات سے کیا تکلیف ہو رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس کی نیت اور سوچ صاف ظاہر ہو رہی ہے، کیونکہ پارٹی کو مسلمانوں کی سیاسی قیادت یا ان کے سیاسی بااختیار ہونے سے کوئی حقیقی سروکار نہیں ہے۔ کانگریس کو صرف مسلمانوں کے ووٹ چاہیے، لیکن قیادت کے مواقع دینے میں وہ ہمیشہ پیچھے ہٹتی رہی ہے۔

کانگریس نے نہیں بنایا ایک بھی مسلم امیدوار

انہوں نے مہاراشٹر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ لوک سبھا انتخابات کے دوران ریاست کی 48 نشستوں میں سے کانگریس نے ایک بھی مسلم امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیا۔ جب مسلمانوں کو امیدوار ہی نہیں بنایا جائے گا تو وہ رکن پارلیمنٹ کیسے بنیں گے اور آگے چل کر وزیر اعظم بننے کا امکان کیسے پیدا ہوگا؟ وارث پٹھان نے کہا کہ آج کے دور میں مسلمان ایک پسماندہ طبقہ بن چکے ہیں، جس کی تصدیق سچر کمیٹی کی رپورٹ بھی کرتی ہے۔

مسلمانوں کو صرف ووٹ بینک سمجھ کر رکھا

انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ جو پارٹیاں برسوں تک اقتدار میں رہیں، انہوں نے اقتدار کے مزے لوٹے، لیکن مسلمانوں کو صرف ووٹ بینک سمجھ کر رکھا۔ وارث پٹھان کے مطابق ان جماعتوں نے مسلمانوں کی تعلیم، روزگار اور سیاسی نمائندگی کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے، جس کے نتیجے میں آج یہ برادری سماجی اور سیاسی طور پر پسماندہ ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی ایم آئی ایم اسی سوچ کو بدلنے اور مسلمانوں کو سیاسی قیادت اور بااختیار بنانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read