Bharat Express DD Free Dish

World Book Fair 2026: علم، ثقافت اور مکالمے کا جشن: نئی دہلی عالمی کتاب میلہ

اس سال کے عالمی کتاب میلے کی سب سے اہم اور تاریخی خصوصیت یہ ہے کہ داخلہ مکمل طور پر مفت رکھا گیا ہے۔ یہ فیصلہ علم کو طبقاتی حدود سے آزاد کرنے اور زیادہ سے زیادہ عوام، خصوصاً طلبہ اور نوجوانوں کو کتابوں سے جوڑنے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔ میلے میں داخل ہوتے ہی یہ احساس گہرا ہو جاتا ہے کہ کتاب اب کسی مخصوص طبقے کی میراث نہیں رہی بلکہ ہر فرد کے لیے دستیاب ہے۔

تحریر: ڈاکٹر شاہد حبیب

نئی دہلی ایک بار پھر کتابوں کی خوشبو، لفظوں کی گونج اور فکروں کے چراغوں سے منور ہو رہی ہے۔ کیوں کہ ”نئی دہلی عالمی کتاب میلہ 2026“ اس وقت بھارت منڈپم، پرگتی میدان میں پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہے اور یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے علم و ادب کا ایک پورا شہر آباد ہو گیا ہو۔ 10 جنوری سے 18 جنوری 2026 تک جاری رہنے والا یہ میلہ، جو اپنے 53ویں ایڈیشن میں داخل ہو چکا ہے، نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر کے ادبی نقشے پر ایک نمایاں اور معتبر مقام حاصل کر چکا ہے۔ یہ عالمی کتاب میلہ نیشنل بک ٹرسٹ، انڈیا کے زیرِ اہتمام اور وزارتِ تعلیم، حکومتِ ہند کی سرپرستی میں منعقد ہو رہا ہے، جبکہ انڈیا ٹریڈ پروموشن آرگنائزیشن (ITPO) اس کے انتظامی تعاون میں شامل ہے۔ میلے کی وسعت اور وقار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں 35 سے زائد ممالک کے ایک ہزار سے زیادہ پبلشرز شریک ہیں، 600 سے زائد ادبی و فکری تقاریب منعقد ہو رہی ہیں اور قریباً ایک ہزار مقررین علم و ادب کے مختلف موضوعات پر اظہارِ خیال کرنے والے ہیں۔ اندازہ ہے کہ اس میلے میں بیس لاکھ سے زائد زائرین پہنچیں گے۔ یہاں پہنچ کر محسوس یہ ہو رہا ہے کہ پرگتی میدان میں اس وقت لفظ زندہ ہیں، کتابیں بول رہی ہیں اور قاری سن رہا ہے۔

اس سال کے عالمی کتاب میلے کی سب سے اہم اور تاریخی خصوصیت یہ ہے کہ داخلہ مکمل طور پر مفت رکھا گیا ہے۔ یہ فیصلہ علم کو طبقاتی حدود سے آزاد کرنے اور زیادہ سے زیادہ عوام، خصوصاً طلبہ اور نوجوانوں کو کتابوں سے جوڑنے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔ میلے میں داخل ہوتے ہی یہ احساس گہرا ہو جاتا ہے کہ کتاب اب کسی مخصوص طبقے کی میراث نہیں رہی بلکہ ہر فرد کے لیے دستیاب ہے۔ نئی دہلی عالمی کتاب میلہ 2026 کا مرکزی موضوع ہے:

ہندوستانی عسکری تاریخ: شجاعت اور حکمت @75

(Indian Military History: Valour & Wisdom @75)

جو آزادی کے پچھتر برس مکمل ہونے کے پس منظر میں ترتیب دیا گیا ہے اور کئی معنویتوں کا حامل ہے۔ یہ موضوع ہندوستانی فوج، بحریہ اور فضائیہ کی قربانیوں، حکمتِ عملی اور قومی سلامتی میں کردار کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔ اس مقصد کے لیے قائم کیا گیا تھیم پویلین ایک ہزار مربع میٹر سے زیادہ رقبے پر محیط ہے اور ایک مکمل اور 360 ڈگری تجربہ فراہم کر رہا ہے۔ یہاں پانچ سو سے زائد کتابیں، تصویری نمائشیں، فلمی جھلکیاں، تاریخی بیانیے اور انٹرایکٹو ڈسپلے موجود ہیں۔ 1971 کی جنگ، کارگل تنازع، جدید عسکری مہمات اور دفاعی حکمتِ عملی پر مبنی مواد سے زائرین کے اندر نہ صرف معلومات کا اضافہ ہوتا ہے بلکہ ان کے اندر قومی شعور کو بھی بیدار ہوتا ہے۔

کتاب میلے میں بچوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا ہے۔ ہال نمبر 6 میں قائم بچوں کا پویلین (Kidz Express) ننھے قارئین کے لیے ایک رنگین اور تخلیقی دنیا کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ کہانی سنانے کے سیشنز، تھیٹر، مصوری، ویدک میتھس، تخلیقی تحریر اور کتاب سازی جیسی سرگرمیاں بچوں کو مطالعے سے جوڑ رہی ہیں۔ بچے یہاں پہنچ رہے ہیں تو انھیں کتابوں میں کھیل جیسا لطف حاصل ہو رہا ہے جس کی وجہ سے سیکھنا ان کے لیے ایک خوشگوار تجربہ بن گیا ہے۔

اسی کے ساتھ میلے کا ”آتھرز کارنر“ اس وقت قارئین اور تخلیق کاروں کے درمیان ایک زندہ پل کا کام کر رہا ہے۔ معروف مصنفین، نئے لکھنے والے، محققین اور شاعروں سے ملاقاتیں، کتابوں کی رونمائی اور ادبی مباحث قاری کو تخلیق کے عمل کے قریب لے آنے کا سبب بن رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان لکھنے والوں کے لیے یہاں رہنمائی اور حوصلے کی تقویت کا غیر معمولی سامان موجود ہے۔ نئی دہلی عالمی کتاب میلہ ڈیجیٹل دنیا سے بھی ہم آہنگ نظر آتا ہے۔ راشٹریہ ای پستکالیہ (National e-Library) کے ذریعے چھ ہزار سے زائد مفت ای بکس مختلف ہندوستانی زبانوں میں دستیاب ہیں۔ QR کوڈ اور ڈیجیٹل کیوسک کے ذریعے علم کی رسائی کتاب میلے کی دیواروں سے باہر تک پھیل رہی ہے۔ اسی کے ساتھ میلہ صرف قارئین کے لیے نہیں بلکہ پبلشنگ انڈسٹری کے لیے بھی ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر سامنے ہے۔ CEO Speak سیشنز میں اشاعتی دنیا کے رہنماؤں کے ذریعے مستقبل کے رجحانات، ڈیجیٹل چیلنجز اور عالمی منڈی پر گفتگو بھی شامل ہیں۔ آگے بڑھیں تو نئی دہلی رائٹس ٹیبل میں ترجمہ حقوق، مشترکہ اشاعت اور عالمی تعاون پر سنجیدہ مذاکرات بھی ہوں گے، جو ہندوستانی ادب کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں مدد دیں گے۔

کتاب میلے کا افتتاح 10 جنوری 2026 کی صبح وزیرِ تعلیم جناب دھرمیندر پردھان کے ہاتھوں ہوا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کتاب کو سماجی تبدیلی کا سب سے مضبوط ذریعہ قرار دیا اور مفت داخلے کے فیصلے کو علم کی جمہوریت کی سمت ایک اہم قدم بتایا۔ اس موقع پر مہمانِ خصوصی ملک ”قطر“ اور فوکس کنٹری ”اسپین“ کی نمائندگی نے عالمی ادبی مکالمے کو مزید مضبوط بنایا۔ روس، جاپان، فرانس، ایران، پولینڈ، یو اے ای، ارجنٹینا اور دیگر کئی ممالک کی شرکت اس میلے کو حقیقی معنوں میں عالمی بنارہی ہے۔ مختلف زبانوں، تہذیبوں اور ادبی روایتوں کا امتزاج اس بات کی گواہی ہے کہ کتاب سرحدوں کی محتاج نہیں۔ قومی اردو کونسل، اردو اکادمی، انجمن ترقی اردو ہند، اور اردو بک ریویو کے بشمول بیسیوں سرکاری و غیر سرکاری اردو ناشرین کے اسٹالز اردو شائقین کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہیں۔

ہم کہہ سکتے ہیں کہ نئی دہلی عالمی کتاب میلہ 2026 اس وقت صرف کتابوں کی خرید و فروخت کا مقام نہیں ہے بلکہ خیالات کا میلہ، مکالمے کا پلیٹ فارم اور ثقافتی ہم آہنگی کی علامت بن کر ہمارے سامنے ہے۔ اس رنگا رنگ میلے کے انعقاد کی روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں بھی کتاب کی اہمیت کم نہیں ہوئی بلکہ اس کی معنویت مزید بڑھ گئی ہے اور قارئین و شائقین دل کھول کر اس کا استقبال کر رہے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read