Bharat Express DD Free Dish

Bangladesh media claims false: بی ایس ایف کی تردید، ہادی کے قاتلوں کی سرحد پار داخلے سے متعلق بنگلہ دیشی میڈیا کے دعوے ’’جھوٹے اور من گھڑت‘‘

32 سالہ شریف عثمان ہادی کو 12 دسمبر کو ڈھاکہ میں انتخابی مہم کے دوران سر میں گولی ماری گئی۔ شدید زخمی حالت میں انہیں خصوصی علاج کے لیے سنگاپور منتقل کیا گیا جہاں 18 دسمبر کو ان کا انتقال ہو گیا۔

نئی دہلی: بارڈر سکیورٹی فورس (BSF) نے بنگلہ دیشی میڈیا کے بعض حلقوں میں شائع ہونے والی اُن خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ طالب علم لیڈر شریف عثمان ہادی کے قتل کے دو ملزم بنگلہ دیش کے ہلواگھاٹ سرحدی علاقے کے راستے بھارت میں داخل ہوئے ہیں۔ بی ایس ایف نے ان خبروں کو جھوٹا، من گھڑت اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ایسے کسی دعوے کی تصدیق کے لیے کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔‘‘

میگھالیہ سیکٹر میں کوئی گرفتاری نہیں: بی ایس ایف

بھارت۔بنگلہ دیش سرحد کی نگرانی کرنے والی فورس نے واضح کیا کہ میگھالیہ سیکٹر میں نہ تو کسی کی گرفتاری عمل میں آئی ہے اور نہ ہی کسی غیر قانونی سرحدی نقل و حرکت کی اطلاع ملی ہے۔ میگھالیہ میں بی ایس ایف کے انسپکٹر جنرل او پی اُپادھیائے نے پیر کے روز اے این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’’یہ تمام دعوے مکمل طور پر جھوٹے، من گھڑت اور گمراہ کن ہیں۔ ان کی تائید میں کوئی ثبوت موجود نہیں۔‘‘

بنگلہ دیشی میڈیا کے بیانات میں تضاد

او پی اُپادھیائے نے کہا کہ چند دن قبل بنگلہ دیشی میڈیا نے خود ایک آئی جی رینک افسر کے حوالے سے رپورٹ شائع کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ ایسے کسی واقعے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا: ’’اب ایک ڈی آئی جی سطح کے افسر نے اس کے برعکس بیان دیا ہے۔ یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ میگھالیہ پولیس نے ملزمان کو گرفتار کیا، لیکن تصدیق پر میگھالیہ پولیس نے ایسی کسی گرفتاری سے انکار کر دیا۔ بنگلہ دیشی میڈیا کی تمام رپورٹیں غلط ہیں۔‘‘

بی جی بی کی جانب سے بھی کوئی اطلاع نہیں

بی ایس ایف کے مطابق بنگلہ دیش بارڈر گارڈ (BGB) نے بھی کسی قسم کی سرحد پار آمدورفت کی اطلاع نہیں دی ہے۔ او پی اُپادھیائے نے کہا: ’’بی جی بی ایک پیشہ ور فورس ہے۔ یہ دعویٰ کہ ملزمان ڈھاکہ سے تقریباً 300 کلومیٹر دور واقع علاقے سے، سی سی ٹی وی نگرانی اور متعدد چیک پوسٹس کے باوجود بھارت میں داخل ہو گئے، انتہائی ناقابل یقین ہے۔ یہ الزامات سراسر جھوٹے اور من گھڑت ہیں۔‘‘

بنگلہ دیشی میڈیا کا دعویٰ

بنگلہ دیشی میڈیا رپورٹس کے مطابق شریف عثمان ہادی کے قتل کے ملزمان فیصل کریم مسعود اور عالمگیر شیخ ملک سے فرار ہو کر میگھالیہ کے راستے بھارت میں داخل ہو گئے ہیں۔ رپورٹس میں کہا گیا کہ یہ افراد میمان سنگھ ضلع کے ہلواگھاٹ سرحدی علاقے سے مقامی مدد کے ذریعے بھارت پہنچے۔

پولیس بریفنگ کا حوالہ

بنگلہ دیشی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس کے ایڈیشنل کمشنر نے ایک میڈیا بریفنگ کے دوران کہا تھا کہ دونوں ملزمان بھارت میں داخل ہو چکے ہیں۔

شریف عثمان ہادی کا قتل

واضح رہے کہ 32 سالہ شریف عثمان ہادی کو 12 دسمبر کو ڈھاکہ میں انتخابی مہم کے دوران سر میں گولی ماری گئی۔ شدید زخمی حالت میں انہیں خصوصی علاج کے لیے سنگاپور منتقل کیا گیا جہاں 18 دسمبر کو ان کا انتقال ہو گیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read