بھوپال: مدھیہ پردیش کے سیہور ضلع کے رام نگر گاؤں کے قریب اِچھاور–آشٹا سڑک پر اتوار کے روز موٹر سائیکل چلا رہے ایک 20 سالہ نوجوان کی زوردار دھماکے میں موت ہو گئی۔ یہ دھماکہ بھوپال سے تقریباً 55 کلومیٹر کے فاصلے پر ہوا۔
اندیشہ ہے کہ گاڑی پر لے جائے جا رہے دھماکہ خیز مواد کے باعث یہ دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں سوار کے جسم کے نچلے حصے کو شدید نقصان پہنچا اور موٹر سائیکل مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔
مہلوک کی شناخت سکھرام بریلا کے طور پر ہوئی ہے، جو جاملی گاؤں کا رہائشی تھا۔ وہ اپنی موٹر سائیکل پر اِچھاور سے رام نگر کی طرف جا رہا تھا۔ یہ واقعہ صبح تقریباً 10:30 سے 11 بجے کے درمیان ایک پتھر توڑنے والی مشین کے قریب پیش آیا۔
تفتیشی افسر اور اِچھاور پولیس اسٹیشن کے انچارج پنکج واڈیکر نے آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکے کے سبب سکھرام کے جسم کے نچلے حصے کو شدید نقصان پہنچا اور وہ سڑک سے کافی دور جا گرا۔ واقعہ کی جگہ سے کوئی مشتبہ شے برآمد نہیں ہوئی اور علاقے کو فوری طور پر محفوظ بنا لیا گیا۔
مجرمانہ سرگرمی میں ملوث سے انکار
انہوں نے ابتدائی طور پر اس بات سے انکار کیا کہ دھماکہ خیز مواد کا کسی مجرمانہ سرگرمی سے کوئی تعلق ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ابتدائی طور پر لگتا ہے کہ متاثرہ شخص کنواں کھودنے، کھیتوں میں چھوٹی موٹی کھدائی یا مچھلی پکڑنے جیسی سرگرمیوں کے لیے دھماکہ خیز مواد لے جا رہا تھا، جو دیہی علاقوں میں بعض لوگ کرتے ہیں، اگرچہ یہ غیر قانونی ہے۔ ہم فارنسک ماہرین کی مدد سے گہری جانچ اور تلاشی مہم چلا رہے ہیں۔‘‘
قانونی کارروائی فارنسک نتائج پر منحصر
پولیس اور فارنسک سائنس لیبارٹری (ایف ایس ایل) کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔ موت کی اطلاع اور ابتدائی تفتیشی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے، جبکہ آئندہ قانونی کارروائی فارنسک نتائج پر منحصر ہوگی۔
غیر قانونی ترسیل کے باعث ہوا دھماکہ
ایف ایس ایل کی ٹیم دھماکہ خیز مواد کی درست نوعیت اور اس کے ماخذ کا پتہ لگانے کے لیے جائے وقوعہ کا معائنہ کر رہی ہے۔ حکام کو شبہ ہے کہ یہ دھماکہ دھماکہ خیز مواد کی غیر قانونی ترسیل کے باعث ہوا، جس کا تعلق ممکنہ طور پر علاقے میں جاری کان کنی یا کھدائی کی سرگرمیوں سے ہو سکتا ہے، جہاں عام طور پر جیلاٹِن اسٹک اور ڈیٹونیٹر استعمال کیے جاتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



