بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمان سترہ سال بعد لندن سے براہ راست ڈھاکہ پہنچ گئے ہیں۔ طارق رحمان سابق وزیر اعظم اور بیمار رہنما خالدہ ضیاء کے صاحبزادے ہیں اور ان کی واپسی کو بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک بڑی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ وہ اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ہمراہ وطن واپس آئے ہیں اور آئندہ 12 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے بھرپور انتخابی مہم چلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ طارق رحمان 11 ستمبر 2008 سے اپنے اہل خانہ کے ساتھ لندن میں مقیم تھے۔ تقریباً سترہ برس بعد ان کی یہ واپسی براہ راست سیاست میں فعال کردار کی طرف واپسی سمجھی جا رہی ہے، جس سے بنگلہ دیش کی سیاسی فضا میں نئی ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔
ڈھاکہ پہنچنے پر بی این پی کے حامیوں کی بڑی تعداد نے ان کا پرجوش استقبال کیا۔ ایئرپورٹ سے لے کر استقبال کے مقام تک سڑکوں پر پارٹی کارکنوں اور حامیوں کا جم غفیر دیکھا گیا۔ نعروں اور جوش و خروش کے درمیان طارق رحمان نے عوام کا شکریہ ادا کیا۔ ان کی جلد ہونے والی عوامی ریلی پر نہ صرف بنگلہ دیش بلکہ بھارت سمیت دیگر ممالک کی بھی گہری نظر ہے۔ ملک میں حالیہ دنوں میں ایک طالب علم رہنما کے قتل کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کے پیش نظر خیال کیا جا رہا ہے کہ طارق رحمان اس معاملے پر بھی اپنا مؤقف واضح کریں گے۔
استقبال سے قبل طارق رحمان کچھ دیر ننگے پاؤں زمین پر کھڑے رہے، جسے ان کے حامیوں نے علامتی قدم قرار دیا۔ اس کے بعد وہ بلٹ پروف بس کے ذریعے جلسہ گاہ کی جانب روانہ ہوئے۔ ایئرپورٹ سے ریلی کے مقام تک انہیں وزیر اعظم کے برابر سکیورٹی فراہم کی گئی۔ مقامی وقت کے مطابق سہ پہر تین بجے وہ قوم سے خطاب کرنے اور اپنے سیاسی لائحہ عمل کا اعلان کرنے والے ہیں۔
وطن واپسی کے بعد طارق رحمان سب سے پہلے اپنی بیمار والدہ خالدہ ضیاء سے ملاقات کے لیے ایورکیئر اسپتال پہنچے۔ اس کے علاوہ وہ 27 دسمبر کو بنگلہ دیش کے ووٹر کے طور پر نیشنل شناختی کارڈ بھی حاصل کریں گے۔ بطور بی این پی کے قائم مقام چیئرمین، طارق رحمان آئندہ انتخابات میں پارٹی کی حکمت عملی اور انتخابی مہم میں مرکزی کردار ادا کریں گے، جس سے بنگلہ دیش کی سیاست میں نئے موڑ آنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

