دہلی کا فضائی معیار مسلسل انتہائی خراب درجے میں برقرار ہے۔ آلودگی کم ہونے کا نام نہیں لے رہی اور حالات دن بہ دن بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ پیر کی صبح 6 بجے سمیر ایپ کے اعداد و شمار کے مطابق آنند وہار کا اے کیو آئی 402، بوانا 408، منڈکا 400، نریلا 418 اور روہنی میں 400 ریکارڈ کیا گیا۔ ان علاقوں میں ہوا کی صورتِ حال انتہائی سنگین ہے، جس کے باعث سانس لینے میں دشواری، آنکھوں میں جلن اور گلے میں خراش جیسی مشکلات کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ڈاکٹروں نے بچوں، بزرگوں اور پہلے سے بیمار افراد کو گھروں کے اندر رہنے اور باہر نکلتے وقت خصوصی احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔
دہلی-این سی آر میں ہوا میں زہر
دہلی کا مجموعی اے کیو آئی 366 درج کیا گیا ہے۔ مانیٹرنگ اسٹیشنوں پر صبح کے وقت زیادہ تر علاقوں میں اے کیو آئی 300 سے 400 کے درمیان رہا۔ وہیں نوئیڈا کا اے کیو آئی 352، غازی آباد 348 اور گروگرام 325 ریکارڈ کیا گیا، یہ تینوں علاقے بھی ریڈ زون میں شامل ہیں۔ آلودگی کی گھنی تہہ کے باعث دارالحکومت کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔ دھند اور اسموگ کی وجہ سے حدِ نگاہ کم ہو گئی ہے، جس سے عام لوگوں کی آمد و رفت متاثر ہو رہی ہے۔ صبح اور شام کے اوقات میں حالات مزید سنگین ہو جاتے ہیں۔ دور سے نظر آنے والی عمارتیں اور یادگاریں اب مشکل سے دکھائی دے رہی ہیں۔
جی آر اے پی-4 نافذ
دارالحکومت میں گریڈڈ ریسپانس ایکشن پلان (GRAP) کے چوتھے مرحلے کو نافذ کر دیا گیا ہے۔ اس کے تحت بی ایس-6 معیارات سے کم درجے کی گاڑیوں کے دہلی میں داخلے پر سخت پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی تعمیراتی سرگرمیوں پر روک، صنعتی سرگرمیوں پر کنٹرول اور عوامی نقل و حمل کو فروغ دینے جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ آلودگی کی سطح کو کم کیا جا سکے۔
ٹھنڈ اور کہرے کا الرٹ
دہلی میں سردی میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ دو دنوں سے سردی کے حوالے سے یلو الرٹ جاری ہے۔ محکمۂ موسمیات نے پیر کے لیے بھی کہرے کا یلو الرٹ جاری کیا ہے۔ آج دارالحکومت کا زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت 21 ڈگری سیلسیئس اور کم سے کم 9 ڈگری سیلسیئس رہنے کا امکان ہے۔ سردی اور آلودگی کے اس دوہرے اثر نے دہلی والوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
