وزیر اعظم مودی ادیس ابابا پہنچے۔
ادیس ابابا: وزیراعظم نریندر مودی منگل کے روز اردن کے بعد ایتھوپیا پہنچے، جہاں انہوں نے اپنے تین ملکی دورے کے دوسرے مرحلے کا آغاز کیا۔ یہ ان کا ایتھوپیا کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔ ایک خصوصی اعزاز کے طور پر ایتھوپیا کے وزیراعظم ابی احمد علی نے ہوائی اڈے پر خود وزیراعظم مودی کا پرتپاک استقبال کیا۔ قابلِ ذکر ہے کہ یہ استقبال کئی معنوں میں خاص رہا، جب وزیراعظم ابی احمد خود گاڑی چلا کر وزیراعظم مودی کو ہوٹل تک لے گئے۔

اس دوران انہوں نے راستے میں وزیراعظم مودی کو سائنس میوزیم اور فرینڈشپ پارک بھی دکھایا۔ یہ سرگرمی سرکاری دورہ جاتی پروگرام (Itinerary) کا حصہ نہیں تھی، لیکن وزیراعظم ابی احمد نے ذاتی پہل کرتے ہوئے وزیراعظم مودی کو ان اہم مقامات کا مشاہدہ کرایا۔

وزیراعظم مودی نے ایکس پر لکھا، ’’کچھ دیر پہلے ادیس ابابا پہنچا ہوں۔ ہوائی اڈے پر وزیراعظم ابی احمد علی کے خلوص بھرے استقبال پر خود کو معزز محسوس کر رہا ہوں۔ ایتھوپیا عظیم تاریخ اور زندہ دل ثقافت رکھنے والا ملک ہے۔ بھارت اور ایتھوپیا کے درمیان گہرے تہذیبی تعلقات رہے ہیں۔ میں ایتھوپیائی قیادت کے ساتھ مختلف شعبوں میں ہماری شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بات چیت کا منتظر ہوں۔‘‘ یہ دورہ وزیراعظم ابی احمد علی کی دعوت پر ہو رہا ہے اور بھارت–ایتھوپیا تعلقات کی بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

دورے کے دوران وزیراعظم مودی اور وزیراعظم ابی احمد علی کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر جامع تبادلۂ خیال ہوگا، جن میں سیاسی تعاون، ترقیاتی شراکت داری، تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط شامل ہیں۔ گلوبل ساؤتھ کے شراکت دار ہونے کے ناتے، دونوں لیڈران سے باہمی مفادات کے لیے دوستی کو مزید مضبوط کرنے اور تعاون کے دائرے کو وسعت دینے کے مشترکہ عزم کی توثیق کی توقع ہے۔
وزیراعظم مودی ایتھوپیا میں مقیم بھارتی برادری کے اراکین سے بھی ملاقات کریں گے اور ایتھوپیائی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔ یہ 2011 کے بعد کسی بھارتی وزیراعظم کا ایتھوپیا کا پہلا دورہ ہے۔ وزیراعظم مودی کے اعزاز میں ادیس ابابا کو استقبالی ہورڈنگز، پوسٹروں اور بھارتی پرچموں سے سجایا گیا ہے۔
ایتھوپیا کو افریقہ اور گلوبل ساؤتھ میں بھارت کا ایک اہم اور قابلِ اعتماد شراکت دار سمجھا جاتا ہے۔ اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کی امید ہے۔
پیر کو روانگی سے قبل اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے ادیس ابابا کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ افریقی یونین کا صدر دفتر ہے۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ بھارت کی جی20 صدارت کے دوران سال 2023 میں افریقی یونین کو جی20 کا مستقل رکن بنایا گیا تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ وزیراعظم ابی احمد کے ساتھ تفصیلی بات چیت، بھارتی برادری سے ملاقات اور ایتھوپیائی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے منتظر ہیں۔
وزیراعظم مودی نے کہا، ’’میں ’مدر آف ڈیموکریسی‘ کے طور پر بھارت کے سفر اور گلوبل ساؤتھ کے لیے بھارت–ایتھوپیا شراکت داری کی اہمیت پر اپنے خیالات پیش کرنے کا خواہاں ہوں۔‘‘
وزیراعظم ابی احمد علی اس سے قبل وائس آف گلوبل ساؤتھ سمٹ کے مختلف ایڈیشنز میں نمایاں شرکت کر چکے ہیں۔ وزارت خارجہ کے مطابق، یہ دورہ جنوب–جنوبی تعاون کو گہرا کرنے اور افریقہ کے ساتھ بھارت کی شراکت داری کو مضبوط بنانے کے مسلسل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
ایتھوپیا پہنچنے سے قبل وزیراعظم مودی نے اردن کا دو روزہ دورہ مکمل کیا، جہاں انہوں نے شاہ عبداللہ دوم اور ولی عہد الحسین بن عبداللہ دوم سے ملاقات کی، انڈیا–اردن بزنس فورم سے خطاب کیا اور اردن میوزیم کا دورہ کیا۔ عمان پہنچنے پر ان کا استقبال اردن کے وزیراعظم جعفر حسن نے کیا تھا۔ وزیراعظم مودی نے اردن کے دورے کو ’’انتہائی ثمرآور‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے دونوں ممالک کے عوام کے لیے ترقی اور خوشحالی کے نئے راستے کھلیں گے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
