Bharat Express DD Free Dish

بھارت میں 2015 کے بعد سیاحتی ڈھانچے کی ازسرِ نو تعمیر PRASHAD اور سودیش درشن اسکیموں کا بڑا کردار

جن میں سے 75 مکمل — غیر معمولی کامیابی یہ سرکٹس مختلف ریاستوں میں قدرتی و ثقافتی مقامات کو ایک مربوط سیاحتی راستے میں تبدیل کرتے ہیں، جس سے مقامی معیشتیں مضبوط ہوتی ہیں۔، سودیش درشن 2.0: تجرباتی، پائیداراورمنزل پر مبنی سیاحت،

گزشتہ دس برسوں میں بھارت کے سیاحتی شعبے نے تاریخ کے سب سے منظم اور حکومتی حکمتِ عملی پر مبنی ترقیاتی دور کا سامنا کیا ہے۔ 2015 کے بعد مرکزی حکومت نے سیاحت کے فروغ کے لیے تین بڑی قومی اسکیمیں — PRASHAD، Swadesh Darshan اور Swadesh Darshan 2.0 — متعارف کرائیں، جنہوں نے سیاحتی بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔یہ تینوں اسکیمیں واضح مالیاتی بجٹ، مخصوص اہداف اور قابل پیمائش نتائج کے ساتھ نافذ کی گئیں۔PRASHAD اسکیم کے تحت 1,726.74 کروڑ روپے،سودیش درشن اسکیم کے لیے 5,290.30 کروڑ روپے، جب کہ سودیش درشن 2.0 کے لیے 2,208.27 کروڑ روپے مختص کیے گئے۔مجموعی طور پر 9,225 کروڑ روپے سے زائد رقم ملک بھر میں 183 سے زیادہ سیاحتی منصوبوں کے لیے منظور کی گئی، جو بھارت کی سیاحت کو طویل مدتی بنیادوں پر مضبوط بنانے کی کوششوں کا ثبوت ہے۔

PRASHAD اسکیم: مذہبی سیاحت کے بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی

2015 میں شروع ہونے والی PRASHAD اسکیم کا مقصد ملک کے مذہبی و روحانی مقامات کو جدید سہولیات کے ساتھ ترقی دینا تھا، جب کہ ان کا اصل مذہبی و ثقافتی تشخص برقرار رکھا جائے۔اسکیم کے تحت 28 ریاستوں و یونین ٹیریٹریز میں 54 منصوبے منظور کیے گئے،جن میں سے 32 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں ، یعنی تقریباً 60 فیصد تکمیل کی شرح۔ سہولیات میں سیاحتی پلازہ، پارکنگ ایریاز، ویٹنگ ہال، کلک روم، پینے کے پانی کا انتظام، بائیوٹائلٹس، ویسٹ مینجمنٹ، وہیل چیئر ریمپس، ای وی گاڑیاں، بہتر سڑکیں اور منظم لینڈ اسکیپنگ شامل ہیں۔مختلف ریاستوں میں نمایاں ترقیاتی منصوبے:آندھرا پردیش: امراوتی، سری سیلم، سماچل مندر،گجرات: سومناتھ، دوارکا،جموں و کشمیر: حضرت بل درگاہ،اتر پردیش: وارانسی (دو مراحل)، گنگا رور کروز،اتراکھنڈ: کیدارناتھ، بدری ناتھ۔ سودیش درشن: ملک گیر ’تھیم بیسڈ‘ سیاحتی سرکٹس، اس اسکیم نے پہلی بار سیاحت کو تھیمٹک سرکٹس کی شکل دی، جن میں ساحلی، ورثہ، روحانی، بودھ، قبائلی، ہمالیائی اور ایکو ٹورزم سرکٹس شامل ہیں۔

76 منصوبے منظور

جن میں سے 75 مکمل — غیر معمولی کامیابی یہ سرکٹس مختلف ریاستوں میں قدرتی و ثقافتی مقامات کو ایک مربوط سیاحتی راستے میں تبدیل کرتے ہیں، جس سے مقامی معیشتیں مضبوط ہوتی ہیں۔، سودیش درشن 2.0: تجرباتی، پائیداراورمنزل پر مبنی سیاحت،پہلی اسکیم کے بعد اب فوکس سرکٹس سے ہٹ کر مخصوص مقامات کو تجرباتی سیاحت کے طور پر ترقی دینے پر ہے۔

اہم منصوبوں میں شامل

آندھرا پردیش: سوریہ لنکا بیچ، آرکو کی بورہ کیوز،بہار: بودھ گیا مراقبہ مرکز،چھتیس گڑھ: بھورام دیو کاریڈور،کیرالا: الاپّوژا واٹر ونڈر لینڈ،راجستھان: کھاٹو شیام جی مندر،میزورم: انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر،یوپی: ’’دیکھو پریاگ راج‘‘ ٹریل، نیم سارنیہ ویدک ویلنس،اتراکھنڈ: گنجی گاؤں میں دیہی سیاحت کلسٹر۔

سیاحت کا نیا قومی ماڈل

اتر پردیش، آندھرا پردیش، راجستھان، کیرالا، جموں و کشمیر اور شمال مشرقی ریاستوں میں یکساں طور پر بہت سے منصوبے منظور کیے گئے، جس سے وفاقی توازن اور شراکت داری کا نیا ماڈل سامنے آیا ہے۔آج بھارت کی سیاحت منصوبہ بندی، شفاف بجٹ، مؤثر عمل درآمد اور معیاری ڈھانچے کی بنیاد پر مضبوط ہو رہی ہے۔ 183 بڑے منصوبے، 9,225 کروڑ کی سرمایہ کاری اور تین قومی اسکیموں نے ملک کی سیاحت کو عالمی معیار تک پہنچانے کی سمت گامزن کر دیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read