Bharat Express DD Free Dish

Karnataka Congress Leadership dispute: کرناٹک کانگریس میں وزیراعلیٰ کے عہدے پر زبانی جنگ، سدھارمائیا اور شیوکمار آمنے سامنے

کرناٹک میں کانگریس حکومت کے اندر وزیراعلیٰ کے عہدے پر رسہ کشی بڑھ گئی ہے۔ نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے سوشل میڈیا پر وعدے کی یاد دہانی کرائی، تو وزیراعلیٰ سدھارمائیا نے جواب دیتے ہوئے پورے مدت کار تک عہدے پر قائم رہنے کا اشارہ دیا۔

کرناٹک کی سیاست ایک مرتبہ پھر گرما گئی ہے۔ حکمران کانگریس میں وزیراعلیٰ کے عہدے کے معاملے پر اندرونی کشمکش اب کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ جمعرات کو نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار اور وزیراعلیٰ سدھارمائیا کے درمیان زبانی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے۔

شیوکمار کا ایکس پوسٹ

سب سے پہلے شیوکمار نے سوشل میڈیا ایکس پر ایک پوسٹ ڈال کر پارٹی قیادت کو اس مبینہ وعدے کی یاد دہانی کرائی، جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت کے پانچ سالہ دور میں 2.5 سال کے بعد انہیں وزیراعلیٰ بنایا جائے گا۔ کانگریس حکومت نے حال ہی میں اپنے ابتدائی 2.5 سال مکمل کیے ہیں۔ شیوکمار نے لکھا،’’الفاظ کی طاقت ہی دنیا کی اصل طاقت ہے۔ ہر کسی کو اپنے وعدے نبھانے چاہئیں۔‘‘

حالانکہ پارٹی نے باضابطہ طور پر کبھی بھی ایسا کوئی فارمولا تسلیم نہیں کیا ہے، لیکن شیوکمار کے حمایتی مسلسل اس دعوے کو دہراتے رہے ہیں۔ خود شیوکمار نے بھی اس پر واضح طور پر کچھ نہیں کہا۔

وزیراعلیٰ سدھارمائیا کا جواب

شیوکمار کے بیان کے چند ہی گھنٹوں بعد وزیراعلیٰ سدھارمائیا نے جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی رائے پورے پانچ سال کے لیے ہوتی ہے، نہ کہ چند مہینوں کے لیے۔ انہوں نے اپنے کاموں کی فہرست شیئر کی اور واضح کیا کہ وہ عہدہ چھوڑنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ سدھارمائیا نے لکھا: ’’ایک لفظ تبھی طاقت بنتا ہے جب وہ لوگوں کی زندگی بہتر کرے۔ کرناٹک کے لوگوں کے لیے ہمارا لفظ کوئی نعرہ نہیں، بلکہ ہماری دنیا ہے۔‘‘

کانگریس کے صدر نے کیا کہا؟

اس دوران کانگریس کے صدر ملیکارجن کھڑگے نے کہا کہ اس مسئلے پر دہلی میں اجلاس ہوگا، جس میں راہل گاندھی، سدھارمائیا اور شیوکمار سمیت سینئر لیڈر شامل ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فیصلہ پارٹی قیادت ہی کرے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read