جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ دہلی بم دھماکوں کے بعد ملک بھر کے کشمیریوں کو شک کی نگاہ سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، اور تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے وزرائے اعلیٰ سے اپیل کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کشمیریوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
کشمیری کمیونٹی کے خلاف شکوک و شبہات کا ماحول
ان واقعات سے پیدا ہونے والے بے چینی کے ماحول پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس طرح کی مجرمانہ کارروائیوں کو انجام دینے والے بہت کم ہیں اور وہ جموں و کشمیر کے لوگوں کی نمائندگی نہیں کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ چند گمراہ افراد کے اقدامات سے پوری کشمیری کمیونٹی کے خلاف شکوک اور دشمنی کا ماحول پیدا ہوا ہے‘‘۔
انہوں نے خاص طور پر کشمیری نوجوانوں کی حفاظت پر توجہ دی جو ملک کے دوسرے حصوں میں کام کر رہے ہیں اورتعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر عبداللہ نے کہا، ’’ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ کشمیری، خاص طور پر ہمارے نوجوان جو مختلف ریاستوں میں تعلیم اور روزگار کے لیے گئے ہیں، اپنے آپ کو محفوظ محسوس کریں۔
سیکورٹی کا تحفظ تمام حکومتوں کی ذمہ داری
انہوں نے یہ بھی کہا کہ کشمیریوں نے ہمیشہ ہندوستان کے سماجی، اقتصادی اور ثقافتی تانے بانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور یہ تمام حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کے وقار اور سلامتی کا تحفظ کریں۔ ڈاکٹر عبداللہ نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک یا ہراساں کیے جانے کے خلاف سخت ہدایات جاری کریں، تاکہ اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران بے گناہ شہری اس کا شکار نہ ہوں۔انہوں نے مزید کہا، ہمیں متحد ہو کر کھڑے ہونا چاہیے، اور انصاف ہمارے رہنما اصول ہونا چاہیے۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

