بہار اسمبلی انتخابات کی گنتی کے دوران کیمور ضلع میں اس وقت ماحول انتہائی کشیدہ ہو گیا جب رام گڑھ اسمبلی سیٹ کے نتائج کے اعلان میں تاخیر پر بی ایس پی امیدوار کے حامیوں نے شدید احتجاج کیا۔ مشتعل بھیڑ نے نہ صرف پولیس پر پتھراؤ کیا بلکہ سرکاری گاڑیوں کو بھی نذر آتش کر دیا۔ صورتحال بگڑنے پر پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا اور ہنگامہ آرائی کے نتیجے میں کم از کم تین سیکورٹی اہلکار زخمی ہو گئے، جن کے سروں پر سنگین چوٹیں آئیں۔
واقعہ کیمور ضلع کے موہنیا بازار کمیٹی پر واقع ووٹنگ سینٹر کا ہے، جہاں رام گڑھ اسمبلی سیٹ کی ووٹوں کی گنتی جاری تھی۔ 25 میں سے 24 راؤنڈ مکمل ہو چکے تھے اور ابتدائی راؤنڈز میں بی ایس پی امیدوار ستیش کمار سنگھ یادو عرف پنٹو یادو تقریباً 170 ووٹوں کی برتری سے بی جے پی امیدوار اشوک سنگھ سے آگے چل رہے تھے۔ تاہم آخری راؤنڈ کی گنتی میں طویل تاخیر نے ماحول کو مزید تناؤ کا شکار بنا دیا۔ ستیش یادو کے حامیوں نے الزام لگایا کہ انتخابی افسران جان بوجھ کر گنتی میں ہیر پھیر کر رہے ہیں اور بی جے پی امیدوار کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
تاخیر اور نتائج کے اعلان میں مبینہ غفلت پر مشتعل حامیوں نے ہنگامہ شروع کردیا اور گنتی مرکز کی جانب بڑھنے لگے۔ پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش میں لاٹھی چارج کیا، جس کے جواب میں بی ایس پی کارکنان نے پتھراؤ شروع کر دی۔ پتھراؤ کے نتیجے میں تین نیم فوجی اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ مشتعل ہجوم نے ایک سرکاری اسکارپیو گاڑی کو آگ لگا دی اور مرکز میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی۔ کچھ دیر تک حالات بے قابو رہے اور پورا علاقہ میدانِ جنگ کا منظر پیش کرنے لگا۔
کیمور کے پولیس سپرنٹنڈنٹ ہری موہن شکلا کے مطابق ہنگامہ کا بنیادی سبب انتخابی نتائج میں تاخیر تھی، جبکہ کچھ شرپسند عناصر نے ماحول کو مزید خراب کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بی ایس پی کارکنان نے گنتی مرکز میں جبراً گھسنے کی کوشش کی جس کے بعد پولیس کو کارروائی کرنا پڑی۔ صورتحال قابو میں لانے کے لیے فورس کی اضافی نفری طلب کی گئی اور حالات کو معمول پر لایا گیا۔
کئی گھنٹوں کی کشیدگی اور تصادم کے بعد آخرکار رات 11 بج کر 11 منٹ پر سرکاری نتیجہ جاری کیا گیا۔ فائنل گنتی کے مطابق بی ایس پی امیدوار ستیش سنگھ یادو محض 30 ووٹوں کی برتری کے ساتھ فاتح قرار پائے۔ انہیں 72,689 ووٹ ملے، جبکہ بی جے پی امیدوار اشوک کمار سنگھ کو 72,659 ووٹوں پر اکتفا کرنا پڑا۔ انتہائی کم فرق نے اس نتیجے کو مزید متنازعہ بنا دیا۔ تاہم، ہنگامہ آرائی اور تشدد کے واقعات پر انتخابی کمیشن کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ ضلع انتظامیہ کے مطابق واقعہ کی مکمل جانچ کی جا رہی ہے اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


