ترکیہ نے بدھ کے روز ان میڈیا رپورٹس کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ،جس میں اس پر ہندوستان سمیت کئی ممالک میں بنیاد پرستی پھیلانے یا دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔ ترکیہ کے کمیونیکیشن ڈائریکٹوریٹ نے ان رپورٹوں کو گمراہ کن اور جھوٹا پروپیگنڈہ قرار دیا۔
ترکیہ کے کمیونیکیشن ڈائریکٹوریٹ نے جاری کیا سرکاری بیان
ترکیہ کے کمیونیکیشن ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے جاری کردہ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ “یہ دعویٰ کہ ترکیہ ہندوستان یا کسی دوسرے ملک کو نشانہ بنانے والی بنیاد پرست سرگرمیوں میں ملوث ہے، مکمل طور پر غلط اور بے بنیاد ہے۔” بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کچھ غیر ملکی ذرائع ابلاغ ترکیہ کو ہندوستان میں دہشت گردی کے واقعات سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ الزام لگاتے ہوئے کہ ترکی دہشت گرد تنظیموں کو مالی، لاجسٹک اور سفارتی مدد فراہم کرتا ہے۔
ترکیہ نے اسے ایک بدنیتی پر مبنی مہم قرار دیا ،جس کا مقصد ہندوستان اور ترکیہ کے باہمی تعلقات کو نقصان پہنچانا ہے۔
یہ ردعمل ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب پیر کو دہلی کے لال قلعہ علاقے میں ایک کار بم دھماکہ ہوا ہے۔ تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ دو مرکزی ملزمان ڈاکٹر عمر اور ڈاکٹر مزمل نے حال ہی میں ترکیہ کا سفر کیا تھا۔ اس انکشاف کے بعد کچھ میڈیا رپورٹس نے دونوں
ممالک کو جوڑ دیا اور ممکنہ نیٹ ورک کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: دہلی کار بم دھماکے میں بڑا انکشاف، کشمیری ڈاکٹر عمر کے ڈی این اے رپورٹ نے کھول دئے راز
ترکیہ نے واضح طور پر ان رپورٹس کو مسترد کردیا
ترکیہ نے واضح طور پر ان رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کا کسی دہشت گردانہ سرگرمی یا تنظیم سے کوئی براہ راست یا بالواسطہ تعلق نہیں ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکی اپنی تمام شکلوں اور مظاہر میں دہشت گردی کے خلاف مضبوط موقف رکھتا ہے اور کسی بھی ملک
کی خودمختاری میں مداخلت کی پالیسی کی حمایت نہیں کرتا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

