سنبھل: کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ راہل گاندھی کو ’انڈین اسٹیٹ‘ بیان کے معاملے میں ایم پی–ایم ایل اے عدالت سے بڑی راحت ملی ہے۔ عدالت نے راہل گاندھی کے خلاف دائر کی گئی عرضی کو خارج کر دیا۔ در اصل، ہندو رکشا دل کے قومی صدر سمرن گپتا نے راہل گاندھی کے خلاف ایک عرضی دائر کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ راہل گاندھی کے بیان سے ملک کے عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے اور یہ ملک سے غداری سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ یہ مقدمہ تقریباً دس مہینے سے عدالت میں زیرِ سماعت تھا، لیکن جمعہ کے روز عدالت نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے عرضی کو خارج کر دیا۔
عدالت نے فیصلہ رکھا تھا محفوظ
اس معاملے میں 28 اکتوبر کو دونوں فریقوں کی بحث مکمل ہو چکی تھی، جس کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔ جمعہ کو عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے راہل گاندھی کے خلاف دائر عرضی کو خارج کر دیا۔ اس فیصلے کے بعد راہل گاندھی کو فی الحال قانونی طور پر بڑی راحت مل گئی ہے، یعنی اب اس معاملے میں ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔ حالانکہ، عرضی گزار سمرن گپتا نے کہا کہ لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے اور انہیں ابھی بھی انصاف کی امید ہے۔
سمرن نے راہل گاندھی پر کیوں لگایا الزام
قابلِ ذکر ہے کہ یہ مقدمہ ہندو رکشا دل کے قومی صدر سمرن گپتا کی اُس عرضی سے متعلق ہے جو انہوں نے 23 جنوری 2025 کو ایم پی–ایم ایل اے کورٹ میں دائر کی تھی۔ سمرن گپتا نے الزام لگایا تھا کہ راہل گاندھی نے 15 جنوری 2025 کو ایک پروگرام میں کہا تھا کہ “ہماری لڑائی بی جے پی یا آر ایس ایس سے نہیں بلکہ انڈین اسٹیٹ سے ہے۔”
عرضی گزار کے مطابق، راہل گاندھی کا یہ بیان ملک کے جمہوری ڈھانچے اور سرکاری اداروں پر سوال کھڑا کرتا ہے۔ انہوں نے عدالت سے مطالبہ کیا تھا کہ اس بیان کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے راہل گاندھی کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ کئی مہینوں کی سماعت اور بحث کے بعد عدالت نے عرضی کو خارج کر دیا، جس سے راہل گاندھی کو بڑی راحت ملی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
