Bharat Express DD Free Dish

Bihar Assembly Elections: مہاگٹھ بندھن میں اب بھی سیٹوں پر اتفاق نہیں، ’دوستانہ مقابلے‘ کے امکانات بڑھے

دوسرے مرحلے کے انتخابات کے لیے آج سے نامزدگی بھرنے کا عمل تیز ہوگیا ہے۔ اب نامزدگی کے چند ہی دن باقی ہیں، لیکن مہاگٹھ بندھن میں شامل سب سے بڑی پارٹی راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے تاحال امیدواروں کی فہرست جاری نہیں کی ہے۔

آر جے ڈی لیڈر تیجشوی یادو۔

پٹنہ: بہار اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیے، جو 6 نومبر کو 18 اضلاع کی 121 اسمبلی نشستوں پر ہونے والا ہے، نامزدگی کا عمل جمعہ کو مکمل ہو گیا۔ لیکن اپوزیشن کے مہاگٹھ بندھن میں اب تک سیٹوں کے بٹوارے پر حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا ہے۔ ایسی صورتحال میں کئی حلقوں میں ’دوستانہ مقابلے‘ (friendly contest) کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

مہاگٹھ بندھن میں شامل کئی پارٹیوں نے کئی ایسی نشستیں ہیں جہاں پر اپنے علیحدہ امیدوار کھڑے کر دیے ہیں۔ دوسری جانب جھارکھنڈ مکتی مورچہ (JMM) نے بھی اکیلے انتخاب لڑنے کا اعلان کیا ہے اور چھ نشستوں پر اپنے امیدوار اتارنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حالانکہ، اتحاد کے لیڈران کا کہنا ہے کہ کچھ نشستوں پر ابھی بات چیت جاری ہے۔

دوسرے مرحلے کے انتخابات کے لیے آج سے نامزدگی بھرنے کا عمل تیز ہوگیا ہے۔ اب نامزدگی کے چند ہی دن باقی ہیں، لیکن مہاگٹھ بندھن میں شامل سب سے بڑی پارٹی راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے تاحال امیدواروں کی فہرست جاری نہیں کی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹکٹ تقسیم کا سلسلہ جاری ہے اور امیدوار فارم بھی بھر رہے ہیں۔

لال گنج سے آر جے ڈی اور کانگریس دونوں کے امیدوار میدان میں ہیں، جبکہ کُٹُنبہ سے کانگریس کے صوبائی صدر راجیش رام کے خلاف آر جے ڈی نے سریش پاسوان کو امیدوار بنا کر بھیجا ہے۔ سکندرا میں بھی آر جے ڈی اور کانگریس کے امیدواروں کے درمیان اختلاف برقرار ہے، جبکہ وارسلی گنج میں آر جے ڈی نے انیتا دیوی کو اور کانگریس نے ستیش کمار سنگھ کو اپنا سِمبل (انتخابی نشان) دے دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، تقریباً دس ایسی نشستیں ہیں جہاں اب تک مہاگٹھ بندھن کی پارٹیوں کے درمیان سیٹ شیئرنگ کا معاملہ حل نہیں ہوا ہے۔ مہاگٹھ بندھن میں آر جے ڈی، کانگریس، وکاس شیل انسان پارٹی (وی آئی پی) اور بائیں بازو کی جماعتیں شامل ہیں۔

اس دوران، آر جے ڈی نے اپنے سوشل میڈیا کے ذریعے کہا ہے کہ کچھ لوگ یہ دعوی کر رہے ہیں کہ راشٹریہ جنتا دل اس سیٹ، اس سیٹ یا کسی اور سیٹ کے لیے امیدوار کھڑا کر رہی ہے۔ ایسی خبریں حقیقت سے بہت دور ہیں۔ اس انتخاب میں اہم مقابلہ بی جے پی اور جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کی قیادت والی این ڈی اے اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے تیجسوی یادو کی قیادت والے عظیم اتحاد کے درمیان سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ، کئی دوسری جماعتیں بھی الیکشن لڑ رہی ہیں۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read