بہار بی جے پی کے پردیش ریاستی صدر دلیپ جیسوال نے بہار اسمبلی انتخابات کے حوالے سے این ڈی اے (نیشنل ڈیموکریٹک الائنس) کی مضبوط اتحاد پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اوپندر کشواہا سے متعلق سارا معاملہ اب مکمل طور پر سلجھ چکا ہےاور اتحاد میں کسی بھی قسم کی کوئی دقت باقی نہیں رہی۔ مکیش سہنی کے این ڈی اے میں شامل ہونے کے امکانات پر انہوں نے واضح کیا کہ ’’این ڈی اے میں تمام سیٹوں کا بٹوارہ ہو چکا ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ اب ان کی کوئی انٹری ہو سکتی ہے۔ اگر وہ آخری وقت میں کوشش بھی کریں، تو ہم ان کی مدد نہیں کر سکتے، کیونکہ سیٹوں کا فیصلہ ہو چکا ہے‘‘۔
عظیم اتحاد میں رسہ کشی پر طنز کرتے ہوئے جیسوال نے کہا،’’عظیم اتحاد میں پہلے جو سمبل (چناؤ نشان) بانٹے گئے، سوشل میڈیا پر دیکھا کہ بعد میں انہیں واپس لے لیا گیا۔ ایک کانگریس لیڈر نے بتایا کہ راہل گاندھی نے واضح طور پر کہہ دیا کہ کسی بھی پارٹی کو سمبل بانٹنے کا اختیار پہلے کس نے دیا۔ اسی بات پر ان کے درمیان اندرونی رسہ کشی جاری ہے۔ کانگریس کسی بھی صورت میں راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کی قیادت قبول کرنے کو تیار نہیں ہے اور ’چھوٹا بھائی‘ بننے پر رضامند نہیں۔‘‘
جلد 30 مزید امیدواروں کے ناموں کا اعلان
این ڈی اے میں سیٹوں کے بٹوارے کے حوالے سے دلیپ جیسوال نے کہا کہ ’’این ڈی اے کے تمام اتحادیوں نے باہمی بات چیت کے بعد سیٹ شیئرنگ کو حتمی شکل دے دی ہے۔ سبھی پارٹیاں اپنے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر رہی ہیں۔ اب کسی بھی سطح پر کوئی دقت نہیں ہے۔‘‘انہوں نے بتایا کہ بی جے پی نے اپنی پہلی فہرست میں 71 امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا ہےاور باقی 30 امیدواروں کے نام بھی جلد ہی جاری کر دیے جائیں گے۔گلوکارہ متھلی ٹھاکرکے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا،’’میتھلی ٹھاکر صرف دربھنگہ کی ہی نہیں، بلکہ پورے متھلا اور بہار کی شان ہیں۔ انہیں کسی ایک علاقے تک محدود کرنا مناسب نہیں۔ وہ نوجوانوں کے لیے ایک تحریک ہیں اور بہار کی پہچان بھی۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


