نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے اٹلی کی پی ایم جارجیا میلونی کی خودنوشت سوانح حیات کے بھارتی ایڈیشن کے لیے پیش لفظ لکھا ہے۔ یہ کتاب، جو اصل میں اٹلی میں شائع ہوئی تھی، اب بھارت میں روپا پبلیکیشنز کے ذریعے شائع کی جا رہی ہے۔ اس کا عنوان ہے: “I Am Giorgia – My Roots, My Principles”۔ مودی نے کتاب کو میلونی کی ذاتی داستان سے بڑھ کر ’’ان کی من کی بات‘‘ قرار دیا اور لکھا کہ یہ قارئین کو یورپ اور دنیا کی ایک متحرک اور جاندار رہنما کے دل و دماغ کی جھلک دکھاتی ہے۔
ناری شکتی سے میلونی کا تعلق
پی ایم مودی نے اپنے پیش لفظ میں کہا: ’’میلونی کی زندگی اور قیادت ہمیں اس ازلی سچائی کی یاد دلاتی ہے جسے ہندوستانی روایت میں ہزاروں سال سے ’ناری شکتی‘ کے طور پر سراہا گیا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ میلونی نے اپنی جڑوں کو مضبوطی سے تھامے رکھا ہے اور اعتماد کے ساتھ عالمی سطح پر اپنے ملک کی قیادت کی ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کا سفر ہندوستانیوں کے دل کے قریب محسوس ہوتا ہے۔
بھارت-اٹلی تعلقات اور ثقافتی رشتہ
پی ایم مودی نے اپنے پیغام میں یہ بھی لکھا: ’’بھارت اور اٹلی کے درمیان رشتہ محض معاہدوں یا تجارت پر نہیں بلکہ تہذیبی اقدارپرقائم ہے، جیسے ورثے کا تحفظ، سماج کی طاقت اور نسوانیت کو رہنمائی کے طور پر ماننا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ یہ کتاب دونوں ملکوں کے درمیان قربت کو مزید بڑھائے گی اور انسانی رشتوں کی بنیاد پر عالمی تعاون کو گہرا کرے گی۔
امریکی ایڈیشن میں ٹرمپ جونیئر کا پیش لفظ
یہ کتاب اٹلی کے بعد امریکہ میں بھی شائع ہو چکی ہے، جہاں اس کا پیش لفظ ڈونالڈ ٹرمپ جونیئر نے لکھا۔
میلونی اور مودی کی قربت
مارچ 2023 میں میلونی نے بھارت کا سرکاری دورہ کیا تھا، جس دوران دونوں ملکوں کے تعلقات کو اسٹریٹیجک پارٹنرشپ میں بدلا گیا۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقاتیں اور بات چیت سوشل میڈیا پر کافی مقبول رہیں۔ 2023 میں دبئی کے COP28 اجلاس کے دوران میلونی کے سیلفی پوسٹ کرنے پر ہیش ٹیگ #Melodi (مودی+میلونی) بھی خوب ٹرینڈ ہوا۔
میلونی کی سوانح کا احوال
میلونی نے اپنی کتاب میں روم کے متوسط طبقے کے علاقے گارباٹیلا میں بچپن، سیاست میں عروج، ابتدائی مشکلات، والد کی غیر موجودگی اور اپنی والدہ و بہن کے اثرات کا ذکر کیا ہے۔ وہ 22 اکتوبر 1977 کو روم میں پیدا ہوئیں اور 2022 میں اٹلی کی پہلی خاتون پی ایم بنیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


